کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 472
باب:1 جہاد کا بیان جہاد کا حکم،اقسام اور حکمت: ٭ جہاد کا حکم: مخصوص جہاد یعنی حربی کافروں کے ساتھ جنگ فرض کفایہ ہے مسلمانوں میں سے کچھ لوگ اگر یہ فریضہ سرانجام دے رہے ہوں تو باقی لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ﴾ ’’اور یہ مناسب نہیں کہ سارے مسلمان نکل پڑیں،پس کیوں نہیں نکلتا ہر قوم میں سے ایک گروہ تاکہ وہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور جب اپنی قوم میں آئیں تو ان کو ڈرائیں تاکہ وہ(برے کاموں سے)بچ سکیں۔‘‘[1] البتہ جن افراد کو امام متعین کر کے جہاد کا حکم دے،ان کے حق میں جہاد فرض عین ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا‘ ’’اور جب تمھیں جہاد کے لیے نکلنے کا کہا جائے تو نکلو۔‘‘[2] اسی طرح اگر دشمن شہر پر حملہ آور ہو جائے تو عورتوں سمیت اس شہر کے سب باشندوں پر دفاع اور لڑائی فرض ہوجاتی ہے۔ ٭ جہاد کی اقسام: 1: حربی کفار سے جہاد کرنا اور یہ ہاتھ،مال،زبان اور دل کے ساتھ ہوتا ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((جَاھِدُوا الْمُشْرِکِینَ بِأَمْوَالِکُمْ وَأَنْفُسِکُمْ وَأَلْسِنَتِکُمْ))’’مشرکین سے اپنے مالوں،جانوں اور زبانوں کے ساتھ جہاد کرو۔‘‘[3] 2: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نافرمانوں(فاسقوں)سے جہاد کرنا اور یہ بھی ہاتھ،زبان اور دل کے ساتھ ہوتا [1] التوبۃ 122:9۔ [2] صحیح البخاري، الجھاد والسیر، باب فضل الجھاد والسیر، حدیث: 2783، وصحیح مسلم، الحج،باب تحریم مکۃ وتحریم صیدھا وخلاھا:، حدیث: 1353۔ [3] [حسن] مسند أحمد: 125,124/3، وسنن أبي داود، الجھاد،باب کراھیۃ ترک الغزو،حدیث: 2504، اور سنن النسائي، الجھاد، باب وجوب الجھاد، حدیث: 3098، اس میں ’أَنْفُسِکُمْ‘ کے بجائے ’أَیْدِیکُمْ‘ کے الفاظ ہیں ۔ اسے امام ابن حبان، حاکم،ذہبی اور نووی رحمۃ اللہ علیہم نے صحیح کہا ہے۔