کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 469
کرنے تک نہ کاٹے۔‘‘[1] 11: جو شخص قربانی کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اسے اس بنیاد پر قربانی کا ثواب ملے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام امت کی طرف سے قربانی کر دی تھی،جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مینڈھا ذبح کرتے وقت فرمایا:))ھٰذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَّمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي(( ’’یہ میری اور میری امت کے ان افراد کی طرف سے ہے،جنھوں نے(عدم استطاعت کی بنیاد پر)قربانی نہیں کی۔‘‘[2] عقیقہ کا بیان: عقیقہ کی تعریف: عقیقہ اس جانور کو کہتے ہیں جو بچے کی پیدائش کے ساتویں دن ذبح کیا جاتا ہے۔ عقیقہ کا حکم: جسے قدرت ہو،اس پر اپنے بچے کی ولادت سے ساتویں دن عقیقہ کرنا سنت مؤکدہ ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((کُلُّ غُلَامٍ رَّھِینَۃٌ بِعَقِیقَتِہِ تُذْبَحُ عَنْہُ یَوْمَ سَابِعِہِ وَیُحْلَقُ،وَیُسَمّٰی)) ’’ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہے۔ساتویں دن اس کی طرف سے(جانور)ذبح کیا جائے،اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال تراشے جائیں۔‘‘[3] ٭ عقیقہ کی حکمت: اس میں اللہ تعالیٰ کی نعمتِ اولاد کا شکر ادا کرنا اور بچے کی حفاظت ونگہبانی کے لیے اللہ عزوجل کی جناب میں وسیلہ بنانا ہے۔ ٭ عقیقہ کے احکام: 1: جانور عیب سے پاک ہو لیکن اس میں عمر کی وہ قید لازم نہیں جو قربانی کے لیے ضروری ہے بلکہ اس میں بھیڑ،بکری،چھترا،بکرا دنبہ اگرچہ کھیرا ہو کفایت کر جاتا ہے۔ 2: اس کی تقسیم اس طریقے پر ہونی چاہیے جو قربانی میں ملحوظ ہوتا ہے کہ گھر والے بھی کھائیں گے،خیرات بھی کریں گے اور تحفے میں بھی دیں گے۔ 3: لڑکے کی طرف سے دو جانور ذبح کیے جائیں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حصرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے دو،دو مینڈھے ذبح کیے تھے۔[4] [1] صحیح مسلم، الأضاحي، باب نھي من دخل علیہ عشر ذي الحجۃ:، حدیث: 1977۔ [2] [حسن] مسند أحمد: 8/3، و سنن أبي داود، الضحایا، باب في الشاۃ یضحي بھا عن جماعۃ، حدیث: 2810، وجامع الترمذي، الأضاحي، باب مایقول إذا ذبح، حدیث: 1521، وقال غریب۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔ [3] [صحیح ] سنن أبي داود، الضحایا، باب في العقیقۃ، حدیث: 2838، وسنن النسائي العقیقۃ، باب متٰی یعق، حدیث: 4225، جامع الترمذي، الأضاحي، باب من العقیقۃ، حدیث: 1522 وقال ’حسن صحیح‘ و سنن ابن ماجہ، الذبائح، باب العقیقۃ، حدیث : 3165، حاکم، ذہبی اور ابن الجارود وغیرہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ [4] سنن النسائي، العقیقۃ، باب کم یعق عن الجاریۃ، حدیث: 4224۔