کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 467
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاۃِ فَإِنَّمَا یَذْبَحُ لِنَفْسِہِ،وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاۃِ فَقَدْ تَمَّ نُسُکُہُ وَأَصَابَ سُنَّۃَ الْمُسْلِمِینَ)) ’’جس نے نماز سے پہلے(قربانی)ذبح کی،اس نے اپنے لیے ذبح کی ہے اور جو نماز(عید)کے بعد ذبح کرتا ہے اس کی عبادت پوری ہوگئی اور اس نے مسلمانوں کا طریقہ اپنایا۔‘‘[1] چوتھے دن تک قربانی ذبح کرنا جائز ہے۔حدیث میں ہے:((کُلُّ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ ذَبْحٌ))’’تمام ایام تشریق(13,12,11)میں ذبح ہے۔‘‘[2] 5: ذبح کرتے وقت جانور کو قبلہ رخ کر لینا اور یہ دعا پڑھنا مستحب ہے: ((إِنِّي وَجَّھْتُ وَجْھِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیفًا وَّمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ،إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُکِي وَمَحْیَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ لَا شَرِیکَ لَہُ وَ بِذٰلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ)) ’’میں نے(سب سے تعلق ختم کر کے)اپنا چہرہ اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔یقینا میری نماز،میری قربانی،میری زندگی اور میری موت،اللہ کے لیے ہے جو جہانوں کا پالنے والا ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں ہے،مجھے یہی حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان(فرمانبردار)ہوں۔‘‘ [3] پھر جب ذبح کرنے لگے تو یہ پڑھے:((بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ،اَللَّھُمَّ!(ھٰذَا)مِنْکَ وَلَکَ)) [1] صحیح البخاري، الأضاحي، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم لأبي بردۃ:، حدیث: 5556۔ [2] [ضعیف] مسند أحمد : 82/4 وصححہ ابن حبان، حدیث: 1008، اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے اس کی کوئی سند بھی صحیح نہیں ہے۔امام نووی شرح مسلم (153/2)میں لکھتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قربانی دس، گیارہ، بارہ اور تیرہ ذوالحجہ تک ہو سکتی ہے۔علی، جبیر بن مطعم، ابن عباس رضی اللہ عنہم ، عطاء، حسن بصری، عمر بن عبد العزیز، سلیمان بن موسیٰ الاسدی، مکحول اور داود ظاہری رحمۃ اللہ علیہم اسی کے قائل ہیں ۔امام ابو حنیفہ وامام مالک رحمہم اللہ کہتے ہیں کہ دس، گیارہ اور بارہ ذوالحجہ تک قربانی ہے۔عمر بن خطاب، علی اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی یہ روایت کی گئی ہے ۔‘‘ امام شافعی رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا حدیث ’کُلُّ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ ذَبْحٌ‘ سے استدلال کیا ہے۔شوکانی رحمہ اللہ نیل الاوطار (216/5)میں لکھتے ہیں : ’’صاحب الھدٰی نے کہا ہے کہ یہ حدیث دو مختلف سندوں سے مروی ہے، جو ایک دوسری کی تقویت کرتی ہیں ، نیز یہ حدیث جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے مگر منقطع ہے۔شوکانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ابن حبان نے حدیث جبیر کو موصول روایت کیا ہے اور اسے اپنی صحیح میں درج کیا ہے۔(الاثری) [3] [صحیح] سنن أبي داود، الضحایا، باب ما یستحب من الضحایا، حدیث : 2795، وسنن ابن ماجہ، الأضاحي، باب أضاحي رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث: 3121۔