کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 463
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فضل طلب کرے۔ اس طرح زیارت مسجد نبوی کی تکمیل ہو چکی۔اس کے بعد چاہے تو مدینہ میں رہے یا واپس چلا جائے،البتہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے اندر نمازیں ادا کرنے کے لیے مقیم رہنا افضل ہے،جبکہ مسجد نبوی شریف میں چالیس نماز پڑھنے کی فضیلت بھی وارد ہے۔[1] ٭ مدینہ منورہ کے مقامات فضیلت کی زیارت: اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے جب ایک مسلمان کو مسجد نبوی میں نماز پڑھنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر کھڑا رہنے کی سعادت سے مشرف کیا ہے اور اس عظیم شہر طیبہ میں داخل کر کے عزت وتکریم دی ہے تو اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ نماز کے لیے مسجد قبا جائے،اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد میں تشریف لے جاتے اور نماز پڑھتے تھے۔اسی طرح صحابۂ کرام کا بھی یہی معمول تھا۔اور آپ کا فرمان ہے:((مَنْ تَطَھَّرَ فِي بَیْتِہِ ثُمَّ أَتٰی مَسْجِدَ قُبَائَ فَصَلّٰی فِیہِ صَلَاۃً کَانَ لَہُ کَأَجْرِ عُمْرَۃٍ)) ’’جو اپنے گھر سے اچھی طرح وضو کر کے مسجد قبا کی طرف نماز کے لیے جاتا ہے،اسے ایک عمرے کا ثواب ملے گا۔‘‘[2] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی سوار ہو کر اور کبھی پیدل چل کر ’’مسجد قبا‘‘ جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔[3] اسی طرح وہ شہدائے احد کی قبروں کی زیارت کے لیے بھی جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ شہدائے احد کی قبروں کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے اور سلام کہتے تھے۔[4] شہدائے احد کی اس زیارت کے ساتھ ’’جبل احد‘‘ کا مشاہدہ بھی ہو جائے گا جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’أُحُدٌ جَبَلٌ یُّحِبُّنَا وَنُحِبُّہُ‘ ’’احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ [5] ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابو بکر،حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم احد پر کھڑے تھے کہ احد پہاڑ کانپنے لگا تو آپ نے احد پہاڑ پر پاؤں مار کر فرمایا:’أُسْکُنْ أُحُدُ!فَلَیْسَ عَلَیْکَ إِلَّا نَبِيٌّ وَّصِدِّیقٌ وَّشَھِیدَانِ‘’’احد!سکون اختیار کر کہ تجھ پر(اللہ کا)نبی،ایک صدیق اور دو شہید(کھڑے)ہیں۔‘‘[6] اسی طرح زائر کو بقیع کے قبرستان کی زیارت بھی کرنی چاہیے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قبرستان میں جاتے اور [1] یہ روایت ضعیف ہے۔اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔(الاثری) [2] [صحیح] مسند أحمد: 487/3، وسنن ابن ماجہ، إقامۃ الصلوات، باب ما جاء في الصلاۃ في مسجد قباء، حدیث: 1412، و المستدرک للحاکم: 12/3۔ [3] صحیح البخاري، فضل الصلاۃ في مسجد مکۃ والمدینۃ، باب إتیان مسجد قباء ماشیا و راکبا، حدیث: 1194، وصحیح مسلم، الحج، باب فضل مسجد قباء:، حدیث: 1399۔ [4] سنن أبي داود، الجنائز، باب الصلاۃ علَی القبر بعد حین، حدیث: 3223۔ [5] صحیح البخاري، الزکاۃ، باب خرص التمر، حدیث: 1482و4084، وصحیح مسلم، الحج، باب فضل المدینۃ:، حدیث: 1365۔ [6] صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب مناقب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ، حدیث: 3699۔