کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 457
رکعت پڑھے۔اگر صرف حج کا احرام تھا یا حج اور عمرہ دونوں کا اور پہلے طواف قدوم کے بعد صفا ومروہ کی سعی کر چکا ہے تو وہی کافی ہے اور اگر حج تمتع کیا ہے تو دو رکعت پڑھنے کے بعد ’’مقام سعی‘‘ کی طرف بڑھے اور صفا ومروہ کے مابین اسی طرح سعی کرے،جیسا کہ پہلے مفصلاً بیان ہوا ہے۔سعی سے فارغ ہو نے کے بعد اس کا احرام پورے طور پر ختم ہے اور جو کام احرام کی وجہ سے اس کے لیے ناجائز ہوئے تھے،سب جائز ہو گئے۔ پھر اسی دن منیٰ واپس آجائے اور رات وہیں گزارے(مزید برآں)ایام تشریق کے پہلے دن(11ذوالحجہ)سورج ڈھلنے کے بعد پہلے ’’جمرۂ اولیٰ‘‘ کو سات کنکر مارے جو کہ مسجد خیف کے قریب ہے،ہر کنکر الگ الگ مارے اور ہر ایک کے ساتھ ’اَللّٰہُ أَکْبَرُ‘ کہے۔کنکر مارنے کے بعد تھوڑا سا آگے بڑھے اور قبلہ رخ ہو کر اللہ کی توفیق کے مطابق جو چاہے دعائیں کرے اور پھر درمیانی جمرہ کی طرف چلے،اسے بھی اسی طرح سات کنکر مارے اور تھوڑا سا ہٹ کر قبلہ رخ ہو کر دعا کرے اور پھر ’’جمرۂ عقبہ‘‘ جو کہ آخری ہے،کی طرف بڑھے اسے بھی سات کنکر مارے،ہر کنکر کے ساتھ تکبیر کہے لیکن اس کے بعد دعا کے لیے کھڑا نہ ہو،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس دعا نہیں کی تھی۔دوسرے دن بھی زوال آفتاب کے بعد آئے اور تینوں جمرات کو اسی طرح کنکر مارے۔ اگر اسے جلدی ہے تو غروب آفتاب سے پہلے مکہ چلا جائے اور اگر جلدی نہیں ہے تو رات منیٰ میں رہے اور تیسرے دن زوال آفتاب کے بعد تینوں جمرات کو کنکر مارے اور پھر مکہ مکرمہ آئے اور جب گھر جانے کا ارادہ ہو تو آخری،یعنی طواف وداع کرے،اس کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت پڑھے اور یہ ذکر کرتے ہوئے گھر کے لیے روانہ ہو جائے:((آئِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ،لِرَبِّنَا حَامِدُونَ،لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ صَدَقَ اللّٰہُ وَعْدَہُ وَنَصَرَ عَبْدَہُ)) ’’ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،اس کا کوئی شریک نہیں ہے،ملک اسی کا ہے اور تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ہم واپس ہو رہے ہیں،رجوع کرنے والے،عبادت کرنے والے اور اپنے رب ہی کی تعریف کرنے والے،ایک اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے،اللہ نے اپنا وعدہ سچا کردیا،اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے نے فوجوں کو شکست دے دی۔‘‘ [1] [1] صحیح مسلم، الحج، باب مایقول إذا رجع من سفر الحج وغیرہ، حدیث: 1344، وجامع الترمذي، الحج، باب ماجاء مایقول عند القفول من الحج والعمرۃ، حدیث: 950۔