کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 454
’’اے ہمارے رب!ہمیں دنیا کی اچھائی اور آخرت کی اچھائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘ [1] پھر اس طرح دوسرا اور تیسرا چکر لگائے۔چوتھے چکر میں رمل ترک کر دے اور(معمول کے مطابق)آہستہ آہستہ چلے اور باقی چار چکر پورے کرے،فارغ ہو کر ’’ملتزم‘‘(بیت اللہ کے دروازہ)کے پاس آئے اور خشوع خضوع کے ساتھ روتے ہوئے دعا کرے،پھر ’’مقام ابراہیم‘‘ کے قریب آکر اس کے پیچھے دو رکعت پڑھے(اور اگر ازدحام ہو تو حرم میں جہاں جگہ ملے پڑھ لے)،پہلی رکعت میں سورئہ فاتحہ اور سورۂ کافرون اور دوسری میں سورئہ اخلاص پڑھے،پھر زمزم کے چشمہ پر جائے اور بیت اللہ کی طرف منہ کر کے خوب سیر ہو کر پانی پئے اور جو چاہے دعا کرے،درج ذیل دعا بھی مستحسن ہے:’اَللَّھُمَّ!إِنِّي أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا وَّرِزْقًا وَّاسِعًا وَّشِفَائً مِّنْ کُلِّ دَائٍ‘ ’’اے اللہ!میں تجھ سے مفید علم،وسیع روزی اور ہر بیماری سے شفا مانگتا ہوں۔‘‘[2] پھر ’’حجر اسود‘‘ کے پاس آئے اور اسے بوسہ دے یا ہاتھ لگائے اور بعد ازاں ’’باب صفا‘‘ سے یہ پڑھتے ہوئے ’’مقام سعی‘‘ کی طرف بڑھے: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللّٰهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ﴾ ’’بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔جو کوئی حج یا عمرہ کے لیے آئے،وہ ان دونوں کا طواف بھی کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جو اچھائی کمائے گا تو اللہ بڑا قدر دان اور جاننے والا ہے۔‘‘[3] پھر ’’صفا‘‘ پہاڑی پر چڑھ جائے اور بیت اللہ کی طرف منہ کرکے تین بار اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہے اور یہ ورد کرے: ((لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ،لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ،وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیرٌ،لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ،صَدَقَ وَعْدَہُ وَنَصَرَ عَبْدَہُ وَھَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ)) ’’ایک اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے،اس کا کوئی شریک نہیں،ملک اسی کا ہے اور تعریف بھی اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے،ایک اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے،اس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا،اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے نے سب فوجوں کو شکست دے دی۔‘‘ [4] پھر دنیا وآخرت کی بھلائی کا سوال کرے اور ’’کوہ مروہ‘‘ کی طرف چلنے کے ارادے سے نیچے اترے،دوران ’’سعی‘‘ ذکر ودعا میں مشغول رہے،وادی کے درمیان آئے جسے سبز ستون کے ساتھ نمایاں کیا گیا ہے تو وہاں سے دوسرے سبز [1] البقرۃ 201:2، وسنن أبي داود، المناسک، باب الدعاء في الطواف، حدیث: 1892۔ [2] [ضعیف] المستدرک للحاکم: 473/1، والترغیب والترھیب : 167/2۔ [3] البقرۃ 158:2۔ [4] صحیح مسلم، الحج، باب حجۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث: 1218، وسنن أبي داود، المناسک، باب صفۃ حجۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث: 1905۔