کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 450
5: میدان عرفات سے واپسی ’’ما زمَیْن‘‘ کے راستے سے ہونی چاہیے نہ کہ مقامِ ’’ضب‘‘ کے راستے سے کہ جس سے گئے تھے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک راستے سے جاتے تھے اور دوسرے سے واپس آتے تھے۔[1] 6: آرام سے چلنا اور جلدی نہ کرنا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:((یَا أَیُّھَا النَّاسُ!عَلَیْکُمْ بِالسَّکِینَۃِ وَالْوَقَارِ،فَإِنَّ الْبِرَّ لَیْسَ فِي إِیضَاعِ الإِْبِلِ)) ’’اے لوگو!سکون و اطمینان سے چلو،اونٹ دوڑانے میں نیکی نہیں ہے۔‘‘ [2] 7: عرفات،مزدلفہ اور منیٰ کے ان مقامات پر آنے جانے میں ’’جمرہ عقبہ‘‘ کو کنکر مارنے تک کثرت سے تلبیہ کہنا۔ 8: ’’ مزدلفہ‘‘ سے ہی سات کنکر چن لینا۔ 9: ’’مزدلفہ‘‘ سے سورج نکلنے سے پہلے اور صبح کی واضح روشنی کے وقت روانہ ہو جانا۔ 10: ’’ بطن محسر‘‘ کی وادی میں ایک پتھر پھینکے جانے کے فاصلہ تک تیز چلنا،جانور کو متحرک کرنا اور گاڑی ہے تو اسے معمول سے قدرے زیادہ تیزی سے لے جانا،یہ اس صورت میں ہے کہ کسی نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔ 11: سورج نکلنے سے زوال تک ’’جمرہ عقبہ‘‘ کو کنکر مارنا۔ 12: کنکر مارتے وقت ہر کنکر کے ساتھ اللہ اکبر کہنا۔ 13: قربانی خود ذبح کرنا یا ذبح ہوتے وقت موجود رہنا اور ’بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ‘ کے بعد یہ کہنا: ((اَللّٰھُمَّ!ھٰذَا مِنْکَ وَإِلَیْکَ،اَللّٰھُمَّ!تَقَبَّلْ مِنِّي کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ إِبْرَاھِیمَ خَلِیلِکَ)) ’’اے اللہ!یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے۔اے اللہ!میری طرف سے قبول فرما،جس طرح تونے اپنے خلیل ابراہیم(علیہ السلام)کی قربانی قبول کی تھی۔‘‘[3] یاد رہے کہ بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ پڑھنا ضروری ہیں۔ 14: قربانی کے گوشت میں سے کھانا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ اپنی قربانی یا ہدی کا گوشت تناول فرماتے تھے۔[4] 15: تشریق کے تین ایام میں ’’جمرات‘‘ کی طرف پیدل چل کر جانا۔ 16: ہر کنکر مارتے وقت ’اَللّٰہُ أَکْبَرُ‘ کہنا اور یہ دعا مانگنا:((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَّبْرُورًا وَّذَنْبًا مَّغْفُورًا وَّسَعْیًا مَّشْکُورًا)) [1] زاد المعاد لابن القیم: 246/2۔ [2] صحیح البخاري، الحج، باب أمر النبي صلی اللہ علیہ وسلم بالسکینۃ عند الإفاضۃ:، حدیث:1671، وسنن النسائي، مناسک الحج، باب فرض الوقوف بعرفۃ، حدیث: 3021۔ [3] لم أَجِدہ۔ [4] صحیح مسلم، الحج، باب حجۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث: 1218، وسنن أبي داود، المناسک، باب صفۃ حجۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث: 1905۔