کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 45
ہی تاویل(۱)و تعطیل کرتا ہے اور مخلوق کے ساتھ اس کے اسماء وصفات کو تشبیہ دے کر ان کی کیفیت اور مثال بھی بیان نہیں کرتا بلکہ وہ جملہ صفات،جن کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اثبات کیا،اللہ تعالیٰ کے لیے ان کا اثبات کرتا ہے اور عیب ونقص کی جملہ صفات سے اسے مبرّا اور پاک قرار دیتا ہے۔اس پر عقلی و نقلی(قرآن و سنت اور آثارِ صحابہ سے منقول)دلائل موجود ہیں۔ قرآن وسنت اور آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے دلائل: 1: اللہ رب العزت نے اپنے نام اور صفات کا تذکرہ خود فرمایا ہے۔ارشادِ ربانی ہے:﴿وَلِلّٰهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ 1. اس فصل میں آپ کو مختلف اصطلاحات ملیں گی۔یہاں آپ کی سہولت کے لیے ان کی مختصر تشریح کی جاتی ہے: ٭ تشبیہ:اللہ تعالیٰ کو اس کی مخلوق سے تشبیہ دینا۔یہ حرام ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی مشابہت سے پاک ہے۔ ٭ تکییف:اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہے مگر چونکہ اس نے کسی صفت کی کیفیت بیان نہیں کی،لہٰذا کسی صفت کی کیفیت سوچنا،پوچھنا یا بیان کرنا،تکییف میں داخل ہے اور چونکہ اس سے مشابہت کا دروازہ کھلتا ہے،لہٰذا یہ بھی حرام ہے۔ ٭ تمثیل:اللہ تعالیٰ کے لیے مخلوق جیسی مثالیں بیان کرنا،یہ بھی مشابہت کی وجہ سے حرام ہے۔ ٭ تجسیم:یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کا جسم ہے،یہ باطل عقیدہ ہے کیونکہ اس کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہے۔اور یہ جو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اپنے ہاتھ کی خبر دی ہے تو اس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے،جس کی کیفیت ہم نہیں جانتے۔اسی طرح یہ جو کہا جاتا ہے ’’وجودِ باری تعالیٰ‘‘ تو اس سے بھی مراد جسم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا موجود ہونا مراد ہوتا ہے۔ ٭ تعطیل:کتاب و سنت میں وارد اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار کرنا تعطیل کہلاتا ہے،مثلاً:اللہ تعالیٰ کے لیے ہاتھ ہے،آنکھ ہے،عرش پر مستوی ہے،سننے والا،دیکھنے والا ہے،وغیرہ۔اس کا انکار کرنا تعطیل ہے اور یہ باطل عقیدہ ہے۔ ٭ تاویل:اسی تشبیہ کے خوف سے اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کے ظاہری معنی چھوڑ دینا اور خود ساختہ معنی مراد لینا تاویل کہلاتا ہے۔یہ بھی حرام ہے،کیونکہ کسی ٹھوس دلیل اور وجہ کے بغیر ظاہری معنی چھوڑ دینا اصول کے خلاف ہے اور کتاب و سنت کے کسی لفظ کا خود ساختہ مفہوم متعین کرنا گناہ ہے۔باقی رہی تشبیہ تو وہ ظاہری معنی مراد لینے سے لازم نہیں آتی بلکہ تکییف سے لازم آتی ہے۔ ٭ تفویض:اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کرنے کے لیے جو الفاظ کتاب و سنت میں وارد ہوئے ہیں ان الفاظ پر تو ایمان لانا مگر ان کے ظاہری معنی و مفہوم کے متعلق تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے کیا معنی ہیں ؟ مثلاً:یہ کہنا:اللہ تعالیٰ ’’سمیع‘‘ ہے مگر اس کا معنی ’’خوب سننے والا‘‘ نہیں،اللہ تعالیٰ کے لیے یَدٌ،عَیْنٌ تو ہے لیکن اس (