کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 445
2: اضطباع:یہ دائیں کندھے کے ننگا رکھنے کو کہتے ہیں،یہ طواف قدوم میں مسنون ہے اور یہ بھی صرف مردوں کے لیے ہے عورتوں کے لیے نہیں،لہٰذا مرد سات چکروں میں دایاں کندھا ننگا رکھے گا۔[1] 3: اگر ممکن ہو تو طواف شروع کرتے وقت حجر اسود کو بوسہ دیا جائے،اگر ایسا کرنا مشکل ہو تو ہاتھ لگا لینا یا اشارہ کرنا ہی کافی ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔[2] 4: دوران طواف دعا کرنا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درج ذیل دعا کا پڑھنا ثابت ہے:﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ ’’اے ہمارے رب!ہمیں دنیا میں اچھائی دے اور آخرت میں بھی اچھائی دے اور ہمیں عذاب جہنم سے بچا۔‘‘[3] 5: طواف کے دوران ہر دفعہ رکن یمانی کو ہاتھ لگانا اور حجر اسود کو بوسہ دینا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اسی طرح تھا۔[4] 6: طواف سے فارغ ہونے کے بعد ’’ملتزم‘‘ کے پاس دعا کرنا۔’’ملتزم‘‘ بیت اللہ کے دروازے اور حجر اسود کی درمیانی جگہ کو کہتے ہیں۔ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اس پر عمل تھا۔ 7: طواف سے فارغ ہونے کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نفل پڑھنا،جس میں سورئہ فاتحہ کے بعد سورئہ کافرون اور سورئہ اخلاص کی تلاوت کرنا،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾’’اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔‘‘[5] 8: دو رکعت سے فارغ ہو کر خوب سیر ہو کر آب زمزم پینا۔ تنبیہ:مذکورہ بالا سنن کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل ہے جو حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔[6] ٭ طواف کے آداب: 1: طواف کرنے والا خشوع وخضوع اورحضور قلب کی کیفیت سے سرشار ہو،اللہ عزوجل کی عظمت اور اس سے خوف و ڈر کا شعور اپنائے ہوئے ہو اور یہ کہ اسے اللہ کے ہاں کی عزت وتکریم حاصل کرنے کی [1] نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے جعرانہ سے عمرہ کیا تو اپنی چادریں دائیں بغلوں کے نیچے سے لاکر بائیں کندھوں پر ڈالیں ۔ مسند أحمد: 306/1، وسنن أبي داود، المناسک، باب الاضطباع في الطواف، حدیث: 1884۔ [2] صحیح البخاري، الحج، باب استلام الحجر الأسود:، حدیث: 1603و1607و1613,1612۔ [3] البقرۃ 201:2، وسنن أبي دواد، المناسک، باب الدعاء في الطواف، حدیث: 1892۔ بعض لمبی لمبی دعائیں مانگتے ہیں ، بعض کورس کی شکل میں پڑھتے ہیں ۔ان سب کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے۔(ع۔و) [4] صحیح البخاري، الحج، باب استلام الرکن بالمحجن و باب من لم یستلم إلا:و باب تقبیل الحجر، حدیث: 1611-1607۔ [5] البقرۃ 125:2۔ [6] صحیح مسلم، الحج، باب حجۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث: 1218۔