کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 443
9: جماع کرنا،اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:﴿فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ﴾’’حج میں رفث،گناہ اور جھگڑا نہیں ہے۔‘‘[1] ٭ ممنوعات احرام کا حکم: مندرجہ بالا ممنوعات میں سے سر مونڈھنے پر فدیہ لازم ہو جاتا ہے،لہٰذا وہ تین دن کے روزے رکھے یا چھ مسکینوں کو ایک مد فی مسکین کے حساب سے کھانا دے یا ایک بکری ذبح کرے،اس لیے کہ فرمان حق تعالیٰ ہے:﴿فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ ’’جو شخص تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو وہ روزے کا فدیہ یا خیرات یا قربانی دے۔‘‘[2] شکار قتل کرنے کی صورت میں اس کی مثل کی جزا ہے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ،وتعالیٰ کا فرمان ہے:﴿فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ﴾ ’’(محرم نے)جو شکار قتل کیا،اس کے مثل چوپایہ جانوروں میں سے اس کی جزا دینا ہے۔‘‘[3] مجامعت اگر تحلل اول(دس ذوالحجہ کو جمرۂ عقبہ کی رمی،یعنی کنکریاں مارنے)سے پہلے ہو تو اس سے حج باطل ہو جاتا ہے مگر اس حج کی تکمیل ضروری ہے اور اس پر ایک اونٹ کا فدیہ ہے۔اگر اس کی طاقت نہیں ہے تو دس دن کے روزے رکھے گا اور اگلے سال حج کی قضا بھی ضروری ہے،اس لیے کہ موطا ٔ امام مالک میں ہے کہ عمر بن خطاب،علی بن ابی طالب اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی حج کے احرام میں جماع کر لیتا ہے۔تو تینوں نے جواب دیا کہ یہ دونوں حج پورا کریں،پھر اگلے سال دونوں حج کریں گے اور قربانی دیں گے۔[4] اگر محرم نکاح کرتا ہے یا پیغام نکاح دیتا ہے یا کسی گناہ وغلطی کا مرتکب ہوتا ہے،جیسا کہ چغلی،حسد وغیرہ جو فسوق کے دائرہ میں آتے ہیں تو اس میں توبہ واستغفار ہے،اس لیے کہ ایسی صورتوں میں شارع سے توبہ اور استغفار کے سوا اور کوئی متعین سزا مروی نہیں ہے ٭ طواف کا بیان: طواف ’’کعبۃ اللہ‘‘ کے اردگرد سات چکر لگانے کو کہتے ہیں۔اس کی بھی شرطیں،سنن اور آداب ہیں،جن سے یہ مکمل ہوتا ہے۔ ٭ طواف کی شرائط: 1: طواف شروع کرتے وقت نیت کرنا:اس لیے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،لہٰذا [1] البقرۃ 197:2۔ [2] البقرۃ 196:2۔ [3] المآئدۃ 95:5۔ [4] [ضعیف] الموطأ للإمام مالک، حدیث: 886۔اس کی سند بلغہ کی وجہ سے مشکوک ہے البتہ المستدرک للحاکم : 65/2 اور السنن الکبرٰی للبیہقي : 167/5 میں ابن عمرو، ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے صحیح سند کے ساتھ یہی فتوی منقول ہے دیکھیےإرواء الغلیل: 233/4۔اس نے اگر بیوی کو مجبور کیا ہے تو پھر مرد پر فدیہ ہے اور عورت پر نہیں اور عورت کا حج بھی درست ہے ورنہ دونوں پر ہے اور اگر وطی تحلل اول کے بعد اور تحلل ثانی سے پہلے ہے تو پھر حج مکمل ہے جبکہ دم دینا لازم ہے۔(ع۔و)