کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 440
﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾ ’’اور اللہ کے لیے لوگوں پر حج کرنا(فرض)ہے،جو اس کے لیے راستہ کی استطاعت رکھتا ہے اور جو انکار کرے تو(جان لینا چاہیے کہ)اللہ جہان والوں سے بے نیاز ہے۔‘‘[1] حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’میں نے ارادہ کیا ہے کہ شہروں میں اپنے آدمی بھیجوں کہ وہ ان لوگوں کو دیکھیں جن کے پاس وسعت ہے مگر انھوں نے حج نہیں کیا تاکہ ان پر جزیہ لاگو کر دیں،اس لیے کہ یہ مسلمان نہیں،مسلمان نہیں۔‘‘ [2] ٭ حج وعمرہ کے ارکان: حج کے چار رکن ہیں:احرام،طواف،صفا ومروہ کی سعی اور وقوف عرفہ۔ان میں سے کوئی ایک رکن بھی ساقط ہو جائے تو حج باطل ہو جائے گا۔ اور اسی طرح عمرہ کے تین رکن ہیں:احرام،طواف اور صفا و مروہ کی سعی۔ان کے بغیر عمرہ پورا نہیں ہوتا۔ان ارکان کی تفصیل حسب ذیل ہے: حج اور عمرہ کے ارکان میں پہلا رکن احرام ہے،جس کا مقصد ان دو عبادتوں میں سے کسی ایک عبادت میں داخل ہونے کی نیت کرنا ہے،جس میں عام لباس کی جگہ احرام باندھنا اور تلبیہ پکارنا ہے۔اس میں واجبات،سنن اور ممنوعات ہیں۔ ٭ واجبات احرام: ان واجبات سے وہ اعمال مراد ہیں،جن کے چھوڑنے سے دم(جانور ذبح کرنا)لازم آتا ہے یا پھر اگر دم ادا نہ کر سکے تو دس دن کے روزے ہیں،واجبات احرام تین ہیں: 1: میقات سے احرام باندھنا:’’میقات‘‘ سے مراد وہ جگہ ہے جس سے حج یا عمرہ کرنے والا احرام کے بغیر تجاوز نہیں کر سکتا۔ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ((وَقَّتَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم لِأَھْلِ الْمَدِینَۃِ ذَا الْحُلَیْفَۃِ،وَلِأَھْلِ الشَّامِ الْجُحْفَۃَ،وَلِأَھْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلِأَھْلِ الْیَمَنِ یَلَمْلَمَ،قَالَ:فَھُنَّ لَھُنَّ وَلِمَنْ أَتٰی عَلَیْھِنَّ مِنْ غَیْرِ أَھْلِھِنَّ،لِمَنْ کَانَ یُرِیدُ الْحَجَّ أَوِ الْعُمْرَۃَ،فَمَنْ کَانَ دُونَھُنَّ فَمُھَلُّہُ مِنْ أَھْلِہِ،وَکَذَاکَ وَکَذَاکَ حَتّٰی أَھْلُ مَکَّۃَ یُھِلُّونَ مِنْھَا)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ’’ذُوالحُلَیْفَہ‘‘مقرر کیا ہے اور شام والوں کے لیے ’’جُحْفَہ‘‘ اور اہل نجد کے لیے ’’قَرْنُ المَنَازِلِ‘‘ اور یمن والوں کے لیے ’’یَلَمْلَمْ‘‘اور یہ ان کے اور ان راستوں سے حج اور عمرہ کی غرض سے دوسرے مقامات سے آنے والوں کے مواقیت ہیں اور جو(ان کی حدود کے)اندر رہتے ہیں،وہ اپنے گھر سے احرام باندھیں گے۔حتی کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔‘‘[3] [1] اٰل عمرٰن 97:3۔ [2] التلخیص الحبیر: 453/2، حدیث: 957۔ [3] صحیح البخاري، الحج، باب مھل أھل الشام، حدیث: 1526۔