کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 436
کی تلافی کے لیے جو کام کیا جائے وہ کفارہ کہلاتا ہے،اگر ایک شخص نے رمضان المبارک کے دن میں جماع کر لیا یا عمدًا کھانا کھایا یا کوئی چیز پی لی توایک بار کے اس جرم کی پاداش میں تین کاموں میں سے ایک کا کرنا اس پر لازم ہے:مومن غلام آزاد کرے یا دو ماہ لگاتار روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے،گندم یا جو یا کھجور کا ایک مد ہر مسکین کو دے،یعنی جس چیز کی اسے استطاعت ہو،جیسا کہ روزے کے کفارے کے وجوب میں مذکورہ حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے اور اگر مخالفت بار بار ہو رہی ہے تو کفارہ بھی متعدد بار ادا کرنا پڑے گا۔اگر ایک شخص ایک دن جماع کرتا ہے اور دوسرے دن پھر جماع کر لیتا ہے تو اسے دو کفارے دینے پڑیں گے۔ ٭ کفارہ کی حکمت: کفارہ اس لیے ہوتا ہے کہ شریعت کو بازیچۂ اطفال ہونے سے بچایا جائے اور اس کی حرمت کا تحفظ کیا جائے،جب مسلمان کا نفس گناہ ومخالفت میں آلودہ ہوجائے تو کفارہ اس کے لیے تطہیر کا باعث ہوتا ہے۔ بنا بریں کفارہ کمیت وکیفیت میں اسی انداز پر ہونا ضروری ہے،جیسا کہ مشروع ہوا تاکہ صحیح طور پر گناہ کا ازالہ اور نفس پر سے اس کے اثرات کو زائل کر سکے۔کفارہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اصل ہے:﴿إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾’’بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں۔‘‘[1] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’اِتَّقِ اللّٰہَ حَیْثُمَا کُنْتَ،وَأَتْبِعِ السَّیِّئَۃَ الْحَسَنَۃَ تَمْحُھَا،وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ‘ ’’تو جہاں بھی ہے،اللہ سے ڈر اور برائی ہو جائے تو نیکی کر،وہ اسے ختم کر دے گی اور لوگوں سے اچھے اخلاق کا برتاؤ کر۔‘‘ [2] باب:12 حج اور عمرے کا بیان حج اور عمرے کا حکم اور ان کی حکمت: ٭ حج اور عمرے کا حکم: حج ہر اس مسلمان مرد اور عورت پر اللہ کی طرف سے فرض ہے،جو اس کی طرف راستہ کی طاقت رکھتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ ’’اور لوگوں پر اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج ہے جو اس کی طرف راستہ کی استطاعت رکھتا ہے۔‘‘[3] [1] ھود 114:11۔ [2] [ضعیف] جامع الترمذي، البر والصلۃ، باب ماجاء في معاشرۃ الناس، حدیث: 1987 وقال حسن صحیح، والمستدرک للحاکم: 54/1 وصححہ علی شرط الشیخین و وافقہ الذہبي۔اس کی سند انقطاع وغیرہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ [3] آل عمرٰن 97:3۔