کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 416
اس کا حکم زکاۃ والا ہے۔ باب:1 1 روزے کے احکام صوم(روزے)کی تعریف اور تاریخ فرضیت: 1 روزے کی تعریف: ’’صیام‘‘ لغت عرب میں مطلق رک جانے کو کہتے ہیں۔شرعاً اس کا مفہوم یہ ہے کہ عبادت کے ارادے سے کھانے،پینے اور عورتوں سے مجامعت اور دیگر روزہ توڑ دینے والی چیزوں سے صبح صادق کے طلوع ہونے سے سورج کے غروب ہونے تک اجتناب کرنا۔ 2 روزے کی تاریخ فرضیت: اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے پہلی امتوں کی طرح امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اپنے درج ذیل فرمان میں روزہ فرض قرار دیا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ ’’اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘[1] یہ آیت مبارکہ بروز سوموار شعبان المعظم 2ھ کو نازل ہوئی۔ 3 روزے کی فضیلت: درج ذیل احادیث مبارکہ روزے کی فضیلت واہمیت کو ثابت کرتی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ مِّنَ النَّارِ کَجُنَّۃِ أَحَدِکُمْ مِّنَ الْقِتَالِ‘ ’’روزہ جہنم سے ڈھال ہے،جس طرح تمھارے ایک کی لڑائی سے بچانے والی ڈھال ہوتی ہے۔‘‘ [2] اور فرمایا:’مَنْ صَامَ یَوْمًا فِي سَبِیلِ اللّٰہِ بَعَّدَ اللّٰہُ وَجْھَہُ عَنِ النَّارِ سَبْعِینَ خَرِیفًا‘ ’’جو شخص اللہ عزوجل کے راستہ میں ایک دن روزہ رکھتا ہے،اللہ اس کا چہرہ جہنم سے ستر سال دور کر دے گا۔‘‘ [3] نیز ارشاد فرمایا:’إِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِہِ لَدَعْوَۃً مَّا تُرَدُّ‘ ’’افطار کے وقت روزے دار کی دعا رد نہیں کی جاتی۔‘‘ [4] نیز ارشاد ہے:’إِنَّ فِي الْجَنَّۃِ بَابًا یُّقَالُ لَہُ:الرَّیَّانُ،یَدْخُلُ مِنْہُ الصَّائِمُونَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،لَا یَدْخُلُ مِنْہُ [1] البقرۃ 183:2۔ [2] [صحیح ] مسند أحمد: 22/4، وسنن ابن ماجہ، الصیام، باب ماجاء في فضل الصیام، حدیث: 1639۔ [3] صحیح البخاري، الجھاد والسیر، باب فضل الصوم في سبیل اللّٰہ، حدیث: 2840، وصحیح مسلم، الصیام، باب فضل الصیام:، حدیث: 1153۔ [4] [حسن] سنن ابن ماجہ، الصیام، باب في الصائم لا ترد دعوتہ، حدیث: 1753، والمستدرک للحاکم: 422/1 ولم أجد تصحیحہ وصححہ البوصیري وحسنہ العسقلاني۔