کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 400
2. فقراء کے ساتھ ہمدردی اور تنگ دستوں،فقراء اور ناداروں کی حاجت براری۔ 3. مصالح عامہ،جن پر امت کی زندگی اور سعادت موقوف ہے،کا پورا کرنا۔ 4. دولت مندوں کی دولت وثروت میں حد بندی تاکہ وہ دولت کسی ایک طبقہ میں بند ہو کر نہ رہ جائے۔ زکاۃ نہ دینے والوں کا حکم: زکاۃ نہ دینا اگر انکار فرضیت کی وجہ سے ہے تو کفر ہے اور اگر کنجوسی اور بخل کی وجہ سے ہے تو گناہ ہے۔ایسے شخص سے زکاۃ زبردستی وصول کی جائے گی اور وہ سزا کا مستحق ہو گا،اگر لڑائی پر اتر آئے تو اس سے اللہ کے حکم کی پابندی اورزکاۃ کی ادائیگی تک جنگ کی جائے گی،اس لیے کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ﴾’’اگر وہ توبہ کریں،نماز قائم کریں اورزکاۃ ادا کریں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں۔‘‘[1] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوا أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ وَیُقِیمُوا الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ،فَإِذَا فَعَلُوا ذٰلِکَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَائَ ھُمْ وَأَمْوَالَھُمْ إِلَّا بِحَقِّ الإِْسْلَامِ،وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ‘ ’’مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں،یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اورزکاۃ ادا کریں۔جب وہ یہ کر لیں گے تو وہ مجھ سے اپنے خون اور مال محفوظ کرلیں گے۔سوائے اسلام کے حق کے اور ان کا حساب اللہ پر ہو گا۔‘‘ [2] اور جیسا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے زکاۃ کا انکار کرنے والوں سے جنگ کی اور فرمایا:اگر یہ لوگ ایک بکری کا بچہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زکاۃ میں دیتے تھے،مجھے دینے سے انکار کریں گے تو میں ان سے جنگ کروں گا۔[3] اور تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بھی اس مسئلہ میں ان سے متفق تھے تو گویا یہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماعی فیصلہ تھا۔ زکاۃ اور غیرزکاۃ والے اموال واجناس کا بیان: سونا اور چاندی: سونا،چاندی اور وہ سامان تجارت جس کی قیمت سونے اور چاندی سے متعین ہوتی ہے،اسی طرح کانوں سے حاصل شدہ اموال اور جاہلی دور میں مدفون خزانہ بھی سونے چاندی کے ساتھ ملحق ہے اور اس کے علاوہ دیگر مالی کرنسی جو سونے اور چاندی کے قائم مقام ہے،ان [1] التوبۃ 11:9۔ [2] صحیح البخاري، الإیمان، باب: ، حدیث: 25، وصحیح مسلم، الإیمان، باب الأمر بقتال الناس حتٰی یقولو لا إلہ إلا اللّٰہ، محمد رسول اللّٰہ:، حدیث: 22۔ [3] صحیح البخاري، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث: 7284، وصحیح مسلم، الإیمان، باب الأمر بقتال الناس حتٰی یقولوا لا إلہ إِلا اللّٰہ:، حدیث: 20۔