کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 379
’’میں اللہ کی بڑائی اور اس کی قدرت کی پناہ لیتا ہوں،اس شر سے جو میں محسوس کر رہا ہوں اور جس کا مجھے اندیشہ ہے۔‘‘[1] صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے۔جبریل علیہ السلام نے آپ پر یہ دم پڑھا: ((بِسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیکَ مِنْ کُلِّ شَيْ ئٍ یُّؤْذِیکَ،مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَیْنٍ حَاسِدٍ،اَللّٰہُ یَشْفِیکَ،بِسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیکَ)) ’’میں اللہ کے نام سے تجھے دم کرتا ہوں،ہر اس بیماری سے جو تجھے ایذا دے رہی ہے،ہر نفس کے شر اور حسد کرنے والی آنکھ کے شر سے،اللہ تجھے شفا دے۔اللہ کے نام سے تجھ پر دم کرتا ہوں۔‘‘[2] 6 کافر اور خاتون معالج سے علاج کروانے کا جواز: مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کافر اگر مسلمان کے لیے امین ہو تو اس سے علاج کرانا جائز ہے اور ضرورت کے وقت عورت بھی مرد کا علاج کر سکتی ہے۔اس لیے کہ رسول اللہ نے بعض کاموں میں مشرکین سے خدمت لی ہے[3] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں صحابیات رضی اللہ عنہن جہاد میں زخمیوں کا علاج کرتی تھیں۔[4] 7 متعدی اور خطرناک مریضوں کو مخصوص وارڈ میں رکھنے کا جواز: متعدی امراض کے علاج کے لیے ہسپتال میں الگ وارڈ بنانا بہتر ہے اور ان سے تندرستوں کو دور رکھنا ضروری ہے۔معا لجین کے علاوہ کوئی ان سے ملاقات نہ کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے مالکوں کو حکم دیا تھا کہ ’’بیمار اونٹوں کو تندرست اونٹوں میں شامل نہ کیا جائے۔‘‘[5] جب جانوروں میں اتنی احتیاط کی جاسکتی ہے تو انسانوں کے لیے بطریق اولیٰ احتیاط کی ضرورت ہے اور اس لیے بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طاعون کے بارے میں ارشاد ہے: [1] صحیح مسلم، السلام، باب استحباب وضع یدہ علٰی موضع الألم:، حدیث: 2202۔ [2] صحیح مسلم، السلام، باب الطب والمرض والرقي، حدیث: 2186۔ [3] صحیح البخاري، الإجارۃ، باب استئجار المشرکین عند الضرورۃ:، حدیث: 2263۔ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ کے وقت ایک غیرمسلم کو راستہ بتانے کے لیے مزدور بنایا تھا۔ [4] صحیح البخاري، الجھاد والسیر، باب ردالنساء الجرحٰی والقتلٰی، حدیث: 2883۔ اسی طرح ربیع بنت معاذ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں غزوات میں جاتی تھیں ، مجاہدین کو پانی پلاتیں ، ان کی خدمت کرتیں ، مقتولین اور زخمیوں کو مدینہ منورہ میں منتقل کرتیں ۔(مؤلف) [5] صحیح البخاري، الطب، باب لا ھامۃ، حدیث: 5771، وصحیح مسلم، السلام، باب لا عدوٰی ولا طیرۃ:، حدیث: 2221۔