کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 377
باب:9 جنازے کے احکام بیماری سے لے کر وفات تک کے مسائل: 1 صبر کرنا ضروری ہے: مسلمان کو نازل شدہ تکلیف پر صبر کرنا چاہیے،ناراضی کا اظہار نہ کرے اور نہ ہی جزع وفزع کرے،اس لیے کہ اللہ جل مجدہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پاک اور احادیث میں صبر کا حکم دیا ہے،ہاں بیمار سے اگر پوچھا جائے!کیا حال ہے۔تو یہ کہہ سکتا ہے کہ میں بیمار ہوں یا مجھے تکلیف ہے،بہرحال حمد وتعریف اللہ کے لیے ہے۔ 2 علاج معالجہ مستحب ہے: مسلمان بیمار کے لیے مستحب ہے کہ وہ مباح اور حلال ادویہ کے ساتھ علاج کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللّٰہَ لَمْ یُنْزِلْ دَائً إِلَّا أَنْزَلَ لَہُ شِفَائً))’’اللہ نے جتنی بیماریاں اتاری ہیں،ان کا علاج بھی اتارا ہے۔پس علاج کرو۔‘‘[1] حرام اشیاء کے ساتھ علاج کرنا ناجائز ہے،جیسا کہ شراب اور خنزیر وغیرہ،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((إِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَجْعَلْ شِفَائَ کُمْ فِیمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ))’’جو چیزیں اللہ نے تم پر حرام کی ہیں،ان میں اس نے تمھارے لیے شفا نہیں رکھی۔‘‘[2] 3 دم کرنا جائز ہے: مسلمان کے لیے آیات قرآنی،مسنون دعاؤں اور اچھے کلام کے ساتھ دم کرنا یا کرانا جائز ہے،اس لیے کہ آپ کا فرمان ہے: ((لَا بَأْسَ بِالرُّقٰی مَالَمْ یَکُنْ فِیہِ شِرْکٌ))’’دم میں کوئی حرج نہیں ہے،بشرطیکہ اس میں شرک اور شرکیہ الفاظ نہ ہوں۔‘‘[3] تعویذ گنڈہ کی تحریم: منکے اور تعویذ استعمال کرنا حرام ہیں۔کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ تعویذ یا منکے گلے [1] [صحیح] سنن ابن ماجہ، الطب، باب ماأنزل اللّٰہ داء إلا أنزل لہ شفاء، حدیث: 3436، و المستدرک للحاکم: 399/4، ومسند أحمد : 278/4 واللفظ لہ، اسے امام بوصیری نے صحیح کہا ہے۔ [2] [حسن] المعجم الکبیر للطبراني: 327/23، حدیث: 749 وصحیح ابن حبان: 233/4، حدیث: 1391، اسے امام ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ [3] صحیح مسلم، السلام، باب لابأس بالرقي ما لم یکن فیہ شرک، حدیث: 2200۔