کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 365
٭ فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک۔ ٭ سورج نکلنے سے لے کر ایک نیزہ سورج کے اونچا ہونے تک۔ ٭ سورج جب سر کے اوپر ہوتا ہے،زوال تک۔ ٭ عصر کے بعد سے سورج کے غروب ہونے تک۔ اس لیے کہ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ((صَلِّ صَلَاۃَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاۃِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَتّٰی تَرْتَفِعَ،فَإِنَّھَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَيْ شَیْطَانٍ،وَحِینَئِذٍ یَّسْجُدُ لَھَا الْکُفَّارُ،ثُمَّ صَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاۃَ مَشْھُودَۃٌ مَّحْضُورَۃٌ حَتّٰی یَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ،ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاۃِ فَإِنَّہُ حِینَئِذٍ تُسَجَرُ جَھَنَّمُ(أَيْ یُوقَدُ عَلَیْھَا)فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْئُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاۃَ مَشْھُوْدَۃٌ مَّحْضُورَۃٌ حَتّٰی تُصَلِّيَ الْعَصْرَ،ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاۃِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ،فَإِنَّھَا تَغْرُبُ بَیْنَ قَرْنَيْ شَیْطَانٍ،وَحِینَئِذٍ یَّسْجُدُ لَھَا الْکُفَّارُ)) ’’صبح کی نماز پڑھ،پھر سورج کے طلوع اور اونچا ہونے تک نماز سے رک جا،اس لیے کہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں،پھر نماز پڑھ،یقینا نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور سورج کے سیدھا سر پر ہونے(زوال)کے وقت نماز سے رک جا،اس لیے کہ اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے اور پھر زوال کے بعد نماز پڑھ،اس لیے کہ نماز کے لیے فرشتے حاضر ہوتے ہیں،پھر نماز عصر پڑھ،پھر اس کے بعد غروب آفتاب تک ٹھہر جا،اس لیے کہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔‘‘[1] 4 بیٹھ کر نفل ادا کرنا: بیٹھ کر نفل پڑھنا جائز ہے،البتہ کھڑے ہو کر پڑھنے کی نسبت بیٹھ کر پڑھنے میں آدھا ثواب ملتا ہے۔| اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’صَلَاۃُ الرَّجلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاۃِ‘ ’’آدمی کا بیٹھ کر نماز پڑھنا نصف نماز کے برابر ہے۔‘‘[2] ٭ فرائض و نوافل کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر ادا کیے جائیں تو پورا ثواب ملتا ہے اگر بلاعذر بیٹھا جائے اور اسے طریقہ نہ بنایا جائے تو نوافل ادا ہو جائیں گے اور نصف ثواب ملے گا جبکہ فرائض ادا نہیں ہوں گے کیونکہ قیام رکن ہے جس کے چھوٹنے سے عمل باطل ہو جاتا ہے واللہ اعلم(ع،ر) [1] صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب إسلام عمرو بن عبسۃ، حدیث : 832۔ [2] صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب جواز النافلۃ قائما وقاعدا:، حدیث: 735، وسنن أبي داود، الصلاۃ، باب في صلاۃ القاعد، حدیث: 950، وسنن النسائي، قیام اللیل، باب فضل صلاۃ القائم علٰی صلاۃ القاعد، حدیث: 1660۔