کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 359
لڑکا اور بیمار۔‘‘[1] اور فرمایا:((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَعَلَیْہِ الْجُمُعَۃُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ إِلَّا عَلٰی مَرِیضٍ أَوْمُسَافِرٍ أَوِ صَبِيٍّ أَوْ مَمْلُوکٍ ....)) ’’اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور آخرت پر یقین رکھنے والے ہر مومن پر جمعہ کے دن جمعہ واجب ہے مگر بیمار،مسافر،عورت،نابالغ اور غلام پر(واجب نہیں)‘‘ [2] ہاں جس پر جمعہ واجب نہیں ہے،اگر وہ امام کے ساتھ نماز جمعہ ادا کر لیتا ہے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔وہ اس کے بعد نماز ظہر نہیں پڑھے گا۔ 6 صحت جمعہ کی شرائط: ٭ آبادی(گاؤں،دیہات،شہر)ہو تو جمعہ صحیح ہے،صحرا یا سفر میں جمعہ درست نہیں ہے،٭ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں شہروں،بستیوں اور دیہات میں جمعہ ہوتا تھا جبکہ بادیہ نشینوں کو اس کا حکم آپ نے نہیں دیا تھا اور نہ ہی یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سفر میں اس کا اہتمام کیا ہو۔ ٭ مسجد کی عمارت یا صحن ہی میں جمعہ درست ہے،اس کے علاوہ کھلے میدانوں میں بوقت ضرورت جمعہ درست ہے۔ ٭ نماز سے پہلے خطبہ ضروری ہے۔اس کے بغیر نماز جمعہ نہیں ہے،اس لیے کہ جمعہ کی مشروعیت خطبہ(جس میں وعظ و تذکیر ہوتا ہے)کے لیے ہی ہے۔ ٭ بستی سے دور رہنے والے پرجمعہ واجب نہیں ہے:جس شہر(یا آبادی)میں جمعہ کی اقامت کا انتظام ہو،اس سے تین میل دور رہنے والے پر جمعہ واجب نہیں ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’اَلْجُمُعَۃُ عَلٰی کُلِّ مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ‘ ’’جمعہ ہر اس شخص پر ہے جو اذان سن سکتا ہے۔‘‘[3] ٭ حدیث نبوی ہے:’’ساری زمین میرے لیے مسجد بنا دی گئی ہے۔‘‘(صحیح البخاري،التیمم،باب:1،حدیث:335)اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا’’:تم جہاں ہو جمعہ قائم کرو۔‘‘ مصنف ابن أبي شیبۃ:440/1۔میں بھی یہ اثر مروی ہے،عینی نے اسے صحیح کہا ہے۔کذا في عون المعبود:283-280/3 اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کھلے میدان میں بھی درست ہے۔(الاثری) [1] [صحیح] سنن أبي داود، الصلاۃ، باب الجمعۃ للمملوک والمرأۃ، حدیث: 1067، اسے امام نووی نے صحیح کہا ہے۔ مستدرک حاکم میں اس کی دوسری سند بھی موجود ہے۔ [2] [ضعیف] السنن الکبرٰی للبیھقي: 184/3، اس کی سند ابن لہیعہ وغیرہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن دیگر دلائل سے نفس مسئلہ ثابت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مختلف اسفار میں گئے ہیں لیکن آپ نے نماز جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز پڑھی ہے۔ [3] [ضعیف] سنن أبي داود، الصلاۃ، باب من تجب علیہ الجمعۃ، حدیث: 1056، وسنن الدارقطني : 6/2 اس کی سند ابوسلمہ بن نبیہ اور ابن ہارون کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے۔