کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 358
وَّشَفِیعًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ ’’جمعہ کے دن اور رات کثرت سے مجھ پر درود پڑھا کرو۔جو اس کی تعمیل کرے گا میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ اور سفارشی ہوں گا۔‘‘٭ ٭: جمعہ کے دن کثرت سے دعا کرنا بہتر ہے،اس لیے کہ اس دن میں ایک ساعت دعا کی قبولیت کی ہے،جو اس وقت میں دعا کرتا ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ اسے قبول کرتا ہے اور جو مانگے دیتا ہے۔ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:((إِنَّ فِي الْجُمُعَۃِ لَسَاعَۃً لَّا یُوَافِقُھَا مُسْلِمٌ یَّسْأَلُ اللّٰہَ فِیھَا خَیْرًا إِلَّا أَعْطَاہُ إِیَّاہُ)) ’’جمعہ کے دن میں ایک ایسا وقت ہے کہ جب کوئی مسلمان اللہ کا بندہ اس میں اللہ عزوجل سے اچھائی کا سوال کرے تو وہ یقینا اسے دیتا ہے۔‘‘[1] بعض روایات میں ہے کہ یہ وقت امام کے خطبے کے لیے بیٹھنے سے لے کر نماز سے فارغ ہونے تک کے درمیان میں ہے۔[2] اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ عصر کے بعد ہے۔[3] 5 وجوب جمعہ کی شرائط: ٭ مرد ہونا کیونکہ عورت پر جمعہ واجب نہیں ہے۔٭ آزاد ہونا کیونکہ غلام پر جمعہ واجب نہیں ہے۔٭ بالغ ہونا کیونکہ نابالغ پر جمعہ واجب نہیں ہے۔٭ تندرست ہونا کیونکہ بیمار جو بیماری کی وجہ سے جمعہ میں شریک نہیں ہو سکتا،اس پر جمعہ واجب نہیں ہے۔٭ مقیم ہونا کیونکہ مسافر پر جمعہ واجب نہیں ہے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((اَلْجُمُعَۃُ حَقٌّ وَّاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَۃٍ إِلَّا أَرْبَعَۃً:عَبْدٌ مَّمْلُوکٌ،أَوِ امْرَأَۃٌ،أَوْ صَبِيٌّ،أَوْ مَرِیضٌ)) ’’جمعہ،چار کے سوا سب مسلمانوں پر واجب اور ثابت ہے(اور وہ چار یہ ہیں)غلام مملوک،عورت،نابالغ ٭: [ضعیف] امام سیوطی نے الجامع الصغیر میں اس حدیث کو امام بیہقی کی ’’شعب الایمان‘‘حدیث:3033کی طرف منسوب کیا ہے اور اس کے حسن ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن امام مناوی نے ’’فیض القدیر‘‘(شرح الجامع الصغیر)میں اس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ امام سیوطی کی بات درست نہیں ہے کیونکہ بالخصوص اس سند میں درست بن زیاد ہے جسے امام ابوزرعہ وغیرہ نے ’’واہٍ‘‘ قرار دیا ہے،نیز اس میں یزید الرقاشی ہے جسے امام نسائی وغیرہ نے متروک قرار دیا ہے:(112/2،حدیث:1405)،لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔ [1] صحیح مسلم، الجمعۃ، باب في الساعۃ التي في یوم الجمعۃ، حدیث: 852۔ [2] صحیح مسلم، الجمعۃ، باب في الساعۃ التي في یوم الجمعۃ، حدیث: 853، وسنن أبي داود، باب الإجابۃ أیۃ ساعۃ ھي في یوم الجمعۃ، حدیث: 1049۔ [3] [صحیح ] سنن ابن ماجہ، إقامۃ الصلوات، باب ما جاء في الساعۃ التي ترجی في الجمعۃ، حدیث: 1139، امام بوصیری فرماتے ہیں :اس کے راوی ثقہ اور سند صحیح ہے، نیز دیکھیے: مسند أحمد: 451/5۔