کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 354
اس کے پیچھے پڑا ہوا ہو اور اسے پکڑے جانے کا خطرہ ہو یا کسی موذی جانور کی ایذا رسانی کا اندیشہ ہو تو جس طرح بھی ممکن ہو نماز پڑھے،پیدل چلتے ہوئے یا دوڑتے ہوئے قبلہ رخ ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔چنانچہ ارشاد ربانی ہے:﴿فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا﴾’’پس اگر تمھیں خطرہ ہو تو پیدل یا سوار ہو کر(نماز ادا کرو)۔‘‘ [1] نیز عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن سفیان ہذلی کی تلاش میں بھیجا۔ان کا بیان ہے کہ مجھے نماز کی تاخیر کا خوف ہوا تو میں نے چلتے چلتے اشارے کے ساتھ نماز ادا کی تھی۔[2] نماز جمعہ کا بیان: 1 نماز جمعہ کا حکم: نماز جمعہ فرض ہے،اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ﴾ ’’اے ایمان والو!جب جمعہ کے دن نماز کی اذان ہو جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف جلدی آجایا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔‘‘[3] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیَنْتَھِیَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَّدْعِھِمُ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَیَخْتِمَنَّ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوبِھِمْ،ثُمَّ لَیَکُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِینَ)) ’’لوگ جمعہ ترک کرنے سے باز آجائیں یا پھر اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا،پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘[4] نیز فرمایا:((اَلْجُمُعَۃُ حَقٌّ وَّاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَۃٍ إِلَّا أَرْبَعَۃً:عَبْدٌ مَّمْلُوکٌ،أَوِامْرَأَۃٌ،أَوْ صَبِيٌّ،أَوْ مَرِیضٌ)) ’’جمعہ،جماعت کے ساتھ ہر مسلمان پر حق اور لازم ہے،البتہ چار قسم کے لوگوں پر(واجب نہیں ہے۔)مملوک غلام،عورت،بچہ اور بیمار۔‘‘[5] 2 نماز جمعہ کی مشروعیت کی حکمت: نماز جمعہ جن مقاصد کے لیے مشروع ہے،ان میں ایک یہ ہے کہ شہر یا دیہات کے ان ذمہ دار،بالغ اور مکلف افراد جو شہری ذمہ داریوں کو برداشت کرنے کی قدرت رکھتے ہیں،ایک جگہ اکٹھا کیا جائے تاکہ مسلمانوں کے امام یا خلیفہ،(یا ان کا نائب)اہل اسلام کے دین ودنیا سے متعلقہ اہم ترین بیانات اور قراردادوں کو سن سکیں۔اور وہ(اہل اسلام)ترغیب وترہیب اور وعد و وعید پر مبنی ضروری باتیں ذہن نشین کر کے اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں اور ان پر عمل و سعی کی کوشش کریں تو اس طرح وہ پورا ہفتہ جوش وخروش اور خوشی کے ساتھ [1] البقرۃ 239:2۔ [2] [صحیح] سنن أبي داود، الصلاۃ، باب صلاۃ الطالب، حدیث: 1249، امام ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [3] الجمعۃ 9:62۔ [4] صحیح مسلم، الجمعۃ، باب التغلیظ في ترک الجمعۃ، حدیث: 865۔ [5] [صحیح ] سنن أبي داود، الصلاۃ، باب الجمعۃ للمملوک والمرأۃ، حدیث: 1067، امام نووی نے اسے صحیح کہا ہے۔