کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 348
’’کسی شہر یا دیہات میں تین آدمی ہوں اور ان میں نماز کی اقامت نہ ہو تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے،لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑیا بکریوں میں سے الگ رہنے والی بکری کو کھا جاتا ہے۔‘‘[1] اور انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اذان دہری کہیں اور اقامت اکہری۔[2] 2 اقامت کے الفاظ: اذان کو خواب میں سننے والے صحابی عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مطابق اقامت کے الفاظ یہ ہیں:٭ ((اَللّٰہُ أَکْبَرُ،اَللّٰہُ أَکْبَرُ،أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ،أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ،حَيَّ عَلَی الصَّلَاۃِ،حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ،قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ،قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ،اَللّٰہُ أَکْبَرُ،اَللّٰہُ أَکْبَرُ،لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ))[3] ((اَلْمُؤَذِّنُ أَمْلَکُ بِالْأَذَانِ وَالإِْمَامُ أَمْلَکُ بِالإِْقَامَۃِ))’’مؤذن اذان کا زیادہ اختیار رکھتا ہے اور امام تکبیر(کہلانے)کا۔‘‘[4] اس کی سند میں اگرچہ مجہول راوی ہے،تاہم فقہاء کا تعامل اسی پر ہے اور ایک شاہد جو علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے[5] وہ بھی اس کی تائید کرتا ہے۔ہاں اذان کہنے میں مؤذن کو اختیار ہے،جب بھی وقت ہو جائے کسی کا انتظار کیے بغیر اذان کہہ دے۔ اذان وتکبیر میں مستحب امور: 1: اذان ٹھہر ٹھہر کر کہنا اور تکبیر(اقامت)میں جلدی کرنا مستحب ہے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا:’إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ فِي أَذَانِکَ،وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْدُرْ‘ ’’جب تو اذان کہے تو اپنی اذان میں ٹھہر ٹھہر کر(کلمات)کہہ اور جب اقامت کہے تو جلدی کر۔‘‘[6] 2: سننے والا وہی الفاظ آہستہ آہستہ دہرائے جو مؤذن یا تکبیر کہنے والا کہہ رہا ہے۔البتہ ’حَيَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، ٭ تنبیہ:اقامت(تکبیر)امام کی مرضی کے وقت کہنی چاہیے۔امام کی موجودگی اور اجازت کے بغیر مؤذن تکبیر نہ کہے۔امام ترمذی نے بعض اہل علم سے نقل کیا ہے۔ [1] مسند أحمد: 196/5و446/6، وسنن أبي داود، الصلاۃ، باب التشدید في ترک الجماعۃ، حدیث: 547 وزاد: قال السائب، یعني بالجماعۃ: الصلاۃ في الجماعۃ، وسنن النسائي،الإمامۃ، باب تشدید في ترک الجماعۃ، حدیث: 848، والمستدرک للحاکم: 246/1و482/2، اسے امام ابن خزیمہ(: 371/2،حدیث: 1486)، ابن حبان (: 458/5، حدیث: 2101)، حاکم اور امام ذہبی نے صحیح کہا ہے۔ [2] صحیح البخاري، الأذان، باب الأذان مثنٰی مثنٰی، حدیث: 606,605، و صحیح مسلم، الصلاۃ، باب الأمر بشفع الأذان:، حدیث: 378۔ [3] سنن أبي داود، الصلاۃ، حدیث: 994۔ [4] [ضعیف] جامع الترمذي، الصلاۃ، باب ما جاء أن الإمام أحق بالإقامۃ، حدیث: 202، یہ قول ابن عدی وغیرہ نے ضعیف سند کے ساتھ مرفوعاً بھی روایت کیا ہے، دیکھیے التلخیص الحبیر: 377/1، حدیث: 311۔ [5] السنن الکبرٰی للبیہقي : 19/2۔ [6] [ضعیف] جامع الترمذي، الصلاۃ، باب ما جاء :، حدیث: 195، اس کی سند ضعیف ہے اور اس کا کوئی شاہد بھی قابل حجت نہیں ۔