کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 344
اور چاہے تو فوت شدہ کو اپنی نماز کی پہلی رکعات سمجھے اور سلام کے بعد ان کی قضا کرے،جیسا کہ دوسری روایت کے الفاظ:’وَاقْضِ مَا سَبَقَکَ‘ ’’اور جو تم سے رہ جائے اس کی قضا کرو۔‘‘ [1]سے مستفاد ہے۔بنا بریں مغرب کی ایک رکعت رہ جانے والے پر لازم ہے کہ اٹھے اور سورئہ فاتحہ اور کوئی سورت جہرًا پڑھے،پھر تشہد پڑھے اور سلام پھیر دے۔ 4: مقتدی کا سورۂ فاتحہ کے علاوہ امام کے پیچھے قراء ت کرنا:جہری نماز میں مقتدی صرف سورۂ فاتحہ پڑھے مزید کچھ نہ پڑھے بلکہ خاموش رہے اور امام کی قراء ت ہی اسے کافی ہو گی۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’مَنْ کَانَ لَہُ إِمَامٌ فَقِرَائَ ۃُ الإِْمَامِ لَہُ قِرَائَ ۃٌ‘ ’’جس کا امام ہو تو امام کی قراء ت اس کی قراء ت ہے۔‘‘[2] نیز آپ کا فرمان ہے:’مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ‘ ’’کیا بات ہے کہ قرآن کی قراء ت مجھ پر گراں ہو رہی ہے۔‘‘[3] چنانچہ لوگ جہری نمازوں میں آپ کے ساتھ(سورۂ فاتحہ کے سوا باقی)قراء ت کرنے سے رک گئے۔ اور فرمایا:’وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا‘ ’’اور جب وہ قراء ت کرے تو خاموش رہو۔‘‘[4] ہاں امام جن نمازوں میں ’’جہر‘‘ نہیں کر رہا تو مقتدی ان میں سورۂ فاتحہ بالاتفاق پڑھے گا۔٭ (﴿فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ﴾(الجمعۃ 10:62)’’جب نماز ادا کر لی جائے تو زمین میں پھیل جاؤ...‘‘(الاثری) ٭ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کے متعلق جمہور محدثین وفقہاء کی تحقیق یہ ہے کہ مقتدی بھی امام کے پیچھے آہستہ فاتحۃ الکتاب کی قراء ت لازمًا کریں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ‘ یعنی ’’اس شخص کی کوئی نماز نہیں جو فاتحۃ الکتاب نہ پڑھے۔‘‘ صحیح البخاري،الأذان،باب وجوب القراء ۃ للإمام والمأموم والصلوات کلھا:،حدیث:756،اور حدیث ’مَنْ کَانَ لَہُ إِمَامٌ فَقِرَائَ ۃُ الإِْمَامِ لَہُ قِرَائَ ۃٌ‘ محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔(تحفۃ الأحوذي)اور بعض اکابرین نے قراء ت سے ماسوی الفاتحہ بھی مراد لی ہے۔حدیث ’مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ‘ میں مقتدی کی ایسی قراء ت جو امام کی قراء ت میں منازعت پیدا کرے،یعنی جہرًا ہی مراد ہے،جیسا کہ ’مَا لِي أُنَازَعُ‘ کا لفظ دال ہے اور اس لیے کہ سنن أبي داود،الصلاۃ،باب من ترک القراء ۃ في صلاتہ بفاتحۃ الکتاب،حدیث:823اور ترمذی میں صحیح حدیث:311 ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:’’تم اپنے امام کے پیچھے پڑھتے ہو۔‘‘ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی:ہاں،آپ نے فرمایا:’’نہ پڑھو سوا فاتحۃ الکتاب کے‘‘ خطابی کہتے ہیں:اس کی سند جید ہے،اس میں کوئی طعن نہیں ہے اور روایت ’وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا‘ میں جو انصات ہے،فاتحہ کا پڑھنا اس کے منافی نہیں ہے اور بعض علماء کہتے ہیں کہ قراء ت سے مراد ماسوی الفاتحہ کی قراء ت ہے۔(الاثری) [1] صحیح مسلم، المساجد، باب استحباب إتیان الصلاۃ بوقار:، حدیث: 602۔ [2] [ضعیف] مسند أحمد: 339/3، وسنن ابن ماجہ، إقامۃ الصلوات، باب إذا قراء الإمام فأنصتوا، حدیث: 850، سنن ابن ما جہ کی سند میں جابر جعفی کذاب راوی ہے جو کہ مسند احمد کی سند سے گر گیا ہے اور دونوں کی سند میں ابوالزبیر مدلس ہے اور اس سند کا کوئی صحیح یا حسن شاہد نہیں ہے۔ [3] [حسن] جامع الترمذي، الصلاۃ، باب ما جاء في ترک القراء ۃ خلف الإمام إذا جھر الإمام بالقراء ۃ، حدیث:312۔ [4] صحیح مسلم، الصلاۃ، باب التشہد في الصلاۃ، حدیث: 404۔