کتاب: منہاج المسلم - صفحہ 34
2: تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و رسل علیہم السلام نے اللہ کی ہستی اور ساری کائنات کے لیے اس کی ربوبیت کی خبر دی ہے کہ وہی ان کا خالق ہے اور اسی کا ان میں تصرف ہے۔مزید ان انبیاء ورسل علیہم السلام نے اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کی بھی خبر دی ہے۔اللہ جل جلالہ نے ہر نبی اور رسول کے پاس اپنا قاصد بھیجا یا اس سے ہم کلام ہوا یا اس کے دل میں القا کیا جس سے اسے اللہ تعالیٰ کے کلام اور وحی کا یقین ہوا۔ مخلوقات میں سے برگزیدہ انسانوں کی اتنی بڑی تعداد کو،جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے وجود کی خبر دی ہے،جھٹلا دینا عقلاً محال ہے اور یہ بھی ممکن نہیں کہ انھوں نے جھوٹ پر اتفاق کر لیا ہو یا بغیر تحقیق و علم اور بلا یقین و جزم ایک غیر محقق و غیرمستند بات کا اعلان کر دیا ہو،جبکہ انبیاء کا یہ گروہ پاکبازی،عقل و دانش اور سچائی میں تمام انسانوں سے فائق اور برتر ہے۔ 3: کروڑوں انسان اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں،اس کی عبادت کرتے ہیں،جبکہ انسانی مزاج میں ہے کہ ایک یا دو آدمیوں کی خبر کا بھی اعتبار کر لیا جاتا ہے،علاوہ ازیں یہ جس ذات پر ا یمان رکھتے،اس کی خبر دیتے،اس کی عبادت کرتے اور اس کا تقرب حاصل کرتے ہیں،عقل و فطرت بھی اس کی صحت کی گواہی دیتی ہے۔ 4: لاکھوں علماء نے بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفات و اسماء اور ہر چیز کے لیے اس کی ربوبیتِ عامہ و قدرتِ کاملہ کا اعتراف کیا ہے اور اسی بنیاد پر اس کی عبادت و اطاعت کرتے ہیں اور محبت و بغض کا معیار بھی اسی کو گردانتے ہیں۔ عقلی دلائل: 1: کائنات میں مختلف جہانوں کا وجود،ان میں اختلاف و تنوع اور مخلوق کا کثیر تعداد میں ہونا،خالقِ حقیقی کا پتہ دیتا ہے کہ وہ اللہ رب العزت کی ذات ہے۔اس لیے کہ اس کے سوا کسی نے بھی ان کی تخلیق و ایجاد کا دعویٰ نہیں کیا۔ان سب کا ازخود ہونا،بلکہ کسی بھی معمولی سی چیز کا موجد کے بغیر پایا جانا،عقلاً محال اور غیر دانشمندانہ بات ہے۔یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی کھانا،کسی پکانے والے کے بغیر ہی تیار ہو جائے اور کوئی بچھونا(دستر خوان وغیرہ)کسی بچھانے والے کے بغیر ہی زمین پر بچھ جائے۔تو پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنے بڑے جہان،آسمان،افلاک،سورج،چاند اور تارے جن کے حجم،مقدار اور باہمی فاصلے مختلف ہیں،ازخود پیدا ہو گئے ہوں ؟ زمین اور زمینی مخلوق انسان،جن،حیوان،ان کے رنگ،زبان کا اختلاف،ادراک و فہم کا تفاوت اور ان کی خصوصی عادات و علامات کو دیکھیں اور مختلف رنگ و منفعت کی حامل زمینی معدنیات اور بہنے والے چشمے،ندیاں،دریا،سمندر،زمین میں اُگے ہوئے پودے،درخت جن کے پھلوں کا ذائقہ،رنگ اور مہک مختلف ہے حتی کہ ہر چیز کی اپنی خصوصیت اور اپنا مزاج ہے،یہ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایک ایسی ہستی موجود ہے جو اپنے امر و تدبیر سے انھیں کنٹرول کر رہی ہے اور اس وسیع و عریض کائنات کا یہ نظام اسی کی مرضی و منشا سے،بغیر کسی خلل کے چل رہا ہے۔ 2: ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جسے ہم پڑھتے ہیں اور اس میں غوروفکر کرتے ہیں اور اس کے معانی سمجھتے