کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 338
البتہ امام شافعی رحمہ اللہ اس مسئلہ میں جمہور کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نابالغ لڑکا فرض نماز میں بھی امام بن سکتا ہے۔ان کا استدلال عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے،جس میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’قرآن کا جو زیادہ قاری ہو وہی امام بنے۔بنا بریں عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی امامت کراتے تھے،جبکہ یہ اس وقت سات سال کی عمر میں تھے۔[1] 4:عورت کی امامت:عورت عورتوں کی نماز میں امام بن سکتی ہے اور وہ صف میں ان کے درمیان ہی کھڑی ہو گی۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام ورقہ بنت نوفل رضی اللہ عنہا سے کہا تھا کہ اپنے محلہ کی عورتوں کی امامت کرائے اور انھیں مؤذن مقرر کرنے کی بھی اجازت دی تھی۔[2] 5: نابینا آدمی کی امامت:نابینا نماز کا امام مقرر ہو سکتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو دو بار مدینہ میں اپنے پیچھے امیر بنا کر چھوڑ گئے تھے۔وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے،جبکہ وہ نابینا تھے۔[3] 6: مفضول کی امامت:افضل کے ہوتے ہوئے مفضول کی امامت بھی جائز ہے،اس لیے کہ رسول اللہ نے مختلف مواقع میں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ہے،جبکہ آپ ان دونوں بلکہ کل مخلوق سے افضل ہیں۔[4] 7: تیمم والے کی امامت:جس نے تیمم کیا ہو،وہ وضو کرنے والوں کا امام بن سکتا ہے،اس لیے کہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے تیمم کے ساتھ ایک فوجی دستے کو نماز پڑھائی تھی،جبکہ وہ سب وضو سے تھے،پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تھا تو آپ نے انکار نہیں فرمایا۔[5] (کیونکہ معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فرض نماز ادا کرتے تھے اور پھر اپنی قوم کی امامت کراتے تھے،جیسا کہ صحیح البخاري،الأذان،باب إذا صلٰی ثم أمّ قوما،حدیث:711 میں ہے:’کَانَ مُعَاذٌ یُّصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم ثُمَّ یَأْتِي قَوْمَہُ فَیُصَلِّي بِھِمْ‘ ’’کہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرتے پھر اپنی قوم کے پاس آتے اور انھیں نماز پڑھاتے۔‘‘معاذ کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فرض ہوتی تھی ارشاد نبوی ہے:’إِذَا أُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَلَا صَلَاۃَ إِلَّا الْمَکْتُوبَۃَ:‘’’جب نماز کھڑی ہو جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہوتی۔‘‘ صحیح مسلم،صلاۃ المسافرین،باب کراھۃ الشروع في نافلۃ بعد شروع المؤذن في إقامۃ الصلاۃ:،حدیث:710۔اور افرادِ قوم ان کے پیچھے فرض پڑھتے تھے جبکہ یہ نفل پڑھ رہے ہوتے تھے۔(الاثری) [1] صحیح البخاري، المغازي، باب: 54، حدیث: 4302 [2] المستدرک للحاکم: 203/1، وسنن أبي داود، الصلاۃ، باب إمامۃ النساء، حدیث: 592,591۔ اس کی سند حسن ہے، اسے امام ابن خزیمہ اور ابن الجارود نے صحیح قرار دیا ہے۔جبکہ بعض محققین نے اسے راوی کی جہالت کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے۔ [3] [صحیح] سنن أبي داود، الصلاۃ، باب إمامۃ الأعمٰی، حدیث: 595۔ [4] صحیح البخاري، الأذان، باب من دخل لیؤم الناس فجاء الإمام الأول:، حدیث: 684، و صحیح مسلم، الصلاۃ، باب تقدیم الجماعۃ، حدیث: 274 بعد حدیث: 421صحیح بخاری میں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور صحیح مسلم میں عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھنے کا ذکر ہے۔ [5] [صحیح] سنن أبي داود، الطھارۃ، باب إذا خاف الجنب البرد أیتیمم، حدیث : 335,334۔