کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 335
’وَبُیُوتُھُنَّ خَیْرٌ لَّھُنَّ‘ ’’اور ان کے گھر،ان کے لیے بہتر ہیں۔‘‘[1] 5:نماز کے لیے نکلنا اور چلنا:مسجد میں جانے کے لیے جو گھر سے نکلتا ہے،اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنا دایاں پاؤں آگے بڑھائے اور کہے: ((بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ،لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ،اَللَّھُمَّ!إِنِّي أَعُوذُ بِکَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْھَلَ أَوْیُجْھَلَ عَلَيَّ)) ’’اللہ کے نام سے،میں اللہ پر توکل کرتا ہوں،کسی نیک کام کرنے کی قوت اور کسی برے کام سے رک جانے کی دسترس،اللہ کے سوا کسی سے حاصل نہیں ہے،اے اللہ!میں تیری حفاظت چاہتا ہوں کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا گمراہ کیا جاؤں،پھسل جاؤں یا پھسلا دیا جاؤں،ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے،جاہلانہ کلام کروں یا مجھ پر جاہلانہ وار کیا جائے۔‘‘[2] ((اَللّٰھُمَّ!إِنِّي أَسْئَلُکَ بِحَقِّ السَّائِلِینَ عَلَیْکَ،وَأَسْأَلُکَ بِحَقِّ مَمْشَايَ ھٰذَا،فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَّلَا بَطَرًا وَّلَا رِیَائً وَّلَا سُمْعَۃً،وَخَرَجْتُ اتِّقَائَ سُخْطِکَ وَابْتِغَائَ مَرْضَاتِکَ،فَأَسْأَلُکَ أَنْ تُعِیذَنِي مِنَ النَّارِ وَأَنْ تَغْفِرَلِي ذُنُوبِي إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ‘ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَّفِي لِسَانِي نُورًا وَّفِي سَمْعِي نُورًا وَّفِي بَصَرِي نُورًا وَّمِنْ فَوْقِي نُورًا وَّمِنْ تَحْتِي نُورًا وَّعَنْ یَّمِینِي نُورًا وَّعَنْ شِمَالِي نُورًا وَّمِنْ بَیْنِ یَدَيَّ نُورًا وَّمِنْ خَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا،وَأَعْظِمْ لِي نُورًا)) ’’اے اللہ!میں مانگنے والوں کے حق اور میرے اس چلنے کے حق کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں،میں بڑائی اور تکبر،ریا اور شہرت کے لیے نہیں نکلا بلکہ تیری ناراضی سے بچنے کے لیے اور تیری رضا حاصل کرنے کے لیے نکلا ہوں۔میرا سوال یہ ہے کہ مجھے آتش جہنم سے بچا اور میرے سارے گناہ معاف کر دے کہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخشتا۔‘‘[3] ’’اے اللہ!میرا دل،میری زبان،میرا کان اور آنکھ نور سے بھر دے اور مجھے میرے [1] [صحیح ] سنن أبي داود، الصلاۃ، باب ما جاء في خروج النساء إلَی المسجد، حدیث: 567۔ [2] [صحیح] جامع الترمذي، الدعوات، باب ماجاء ما یقول إذا خرج من بیتہ، حدیث: 3427,3426، وسنن أبي داود، الأدب، باب مایقول إذا خرج من بیتہ، حدیث: 5095,5094، امام ترمذی نے حدیث : 3426کو حسن اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے، جبکہ اس کی سند ابن جریج کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ اسی طرح حدیث: 3427کو امام ترمذی نے حسن صحیح اور امام حاکم اور ذہبی نے صحیح کہا ہے، جبکہ اس کی سند میں عامر شعبی، ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور ان کا ان سے سماع ثابت نہیں ہے جبکہ شیخ البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔ [3] سنن ابن ماجہ، المساجد والجماعات، باب المشي إلی الصلاۃ، حدیث: 778۔ اس کی سند عطیہ عوفی وغیرہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔