کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 329
5: کسی کام میں زیادہ مشغولیت جو عبادت کے منافی ہونے اور دل واعضاء کے نماز کے علاوہ کام میں مشغول ہونے کی وجہ سے نماز کے باطل ہونے کا باعث ہو،ہاں معمولی کام،جیسا کہ پگڑی درست کرنا یا صف کو درست کرنے کے لیے آگے پیچھے ہونا یا ایک ہی بار کسی چیز کی طرف ہاتھ بڑھانا،اس سے نماز باطل نہیں ہوتی۔اس لیے کہ صحیح سند سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی امامت کراتے ہوئے امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو اٹھایا اور نیچے اتارا تھا۔[1] ٭نماز میں نمازی کے لیے کون سی چیزیں جائز ہیں ؟: 1: کوئی معمولی ضروری عمل:اس لیے کہ صحیح حدیث میں اس کا ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔[2] 2: اضطراری حالت میں کھانسنا۔ 3: صف بندی میں درستی کرنا،یعنی امام کی جہت میں دوسرے مقتدی کو کھینچنا یا آگے پیچھے کرنا،جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہا کو بائیں طرف سے دائیں طرف کر دیا تھا،جبکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں رات کو نماز تہجد پڑھ رہے تھے۔[3] 4: جمائی لینا اور منہ پر ہاتھ رکھنا۔ 5: امام قراء ت بھول جائے تو اسے بتانا یا ’’سہو‘‘ کی صورت میں ’سُبْحَانَ اللّٰہِ‘ کہنا۔اس لیے کہ آپ نے فرمایا: ((مَنْ نَّابَہُ شَيْئٌ فِي صَلاَتِہِ فَلْیَقُلْ:سُبْحَانَ اللّٰہِ))’’جس کو نماز میں کوئی عارضہ لاحق ہو جائے(بھول وغیرہ ہو جائے)تو وہ کہے۔‘‘[4] 6: آگے سے گزرنے والے کو ہٹانا،روکنا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((إِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ إِلٰی شَيْئٍ یَّسْتُرُہُ مِنَ النَّاسِ،فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ یَّجْتَازَ بَیْنَ یَدَیْہِ فَلْیَدْفَعْہُ،فَإِنْ أَبٰی فَلْیُقَاتِلْہُ،فَإِنَّمَا ھُوَ شَیْطَانٌ)) ’’تم میں سے کوئی جب ’’سترہ‘‘ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو وہ [1] صحیح البخاري، الصلاۃ، باب إذا حمل جاریۃ صغیرۃ علٰی عنقہ في الصلاۃ، حدیث: 516، وصحیح مسلم، المساجد، باب جواز حمل الصبیان:، حدیث: 543۔ [2] صحیح البخاري، العمل في الصلاۃ، باب مسح الحصٰی في الصلاۃ، حدیث: 1207۔ [3] صحیح البخاري، العمل في الصلاۃ، باب استعانۃ الید في الصلاۃ إذا کان من أمر الصلاۃ، حدیث: 1198، وصحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم باللیل و دعائہِ باللیل، حدیث: 763۔ [4] صحیح البخاري، العمل في الصلاۃ، باب رفع الأیدي في الصلاۃ لأمر ینزل بہ، حدیث: 1218، وصحیح مسلم، الصلاۃ باب تقدیم الجماعۃ:، حدیث: 421، البتہ عورت سبحان اللہ نہیں کہے گی بلکہ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی پشت پر مارے گی وضاحت صحیحین کی اسی حدیث میں دیکھیے۔ (ع،ر)