کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 321
2: پہلی رکعت میں ’’تعوذ‘ اور ہر رکعت میں آہستہ بسم اللہ پڑھنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾’’جب تو قرآن پڑھے تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ۔‘‘[1] 3: تکبیر تحریمہ،رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت،کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا(رفع الیدین کرنا)اور اسی طرح دوسری رکعت سے اٹھتے وقت بھی۔ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:((کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم إِذَا قَامَ لِلصَّلَاۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی تَکُونَا بِحَذْوِ مَنْکِبَیْہِ،ثُمَّ کَبَّرَ،فَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَّرْکَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذٰلِکَ،وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّکُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذٰلِکَ)) ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھا کر ’اَللّٰہُ أَکْبَرُ‘ کہتے،پھر جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اسی طرح اٹھاتے اور جب رکوع سے اٹھتے تو بھی اسی طرح رفع الیدین کرتے۔‘‘[2] ’وَإِذَا قَامَ مِن الرَّکْعَتَینِ رَفَعَ یَدَیہِ‘ ’’اور جب دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو رفع الیدین کرتے۔‘‘[3] پھر فرماتے:’سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ،رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ‘ ’’اللہ نے اس کی(دعا)سن لی جس نے اس کی حمد کی،اے ہمارے رب!اور تیرے ہی لیے تعریف ہے۔‘‘[4] 4: قراء ت ’’فاتحۃ الکتاب‘‘ کے بعد آمین کہنا۔کیونکہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾پڑھتے تو اونچی آواز سے آمین کہتے۔[5] اور اس لیے بھی کہ آپ کا فرمان ہے:((إِذَا قَالَ الإِْمَامُ:﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾فَقُولُوا:آمِینَ،فَإِنَّہُ مَنْ وَّافَقَ قَوْلُہُ قَوْلَ الْمَلَائِکَۃِ غُفِرَلَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ)) ’’جب امام﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾پڑھے تو تم آمین کہو،جس کی آواز فرشتوں کی آواز کے موافق ہو گئی،اس کے پہلے گناہ معاف ہوجائیں گے۔‘‘[6] [1] النحل 98:16۔ [2] صحیح البخاري، الأذان، باب رفع الیدین إذا کبر وإذا رکع واذا رفع، حدیث: 736، وصحیح مسلم، الصلاۃ، باب استحباب رفع الیدین:، حدیث: 390، واللفظ لہ۔ [3] صحیح البخاري، الأذان، باب رفع الیدین إذا قام من الرکعتین، حدیث: 739۔ [4] صحیح البخاري، الأذان، باب رفع الیدین في التکبیرۃ الأولٰی مع الافتتاح سوائً، حدیث: 735۔ [5] [صحیح] جامع الترمذي، الصلاۃ، باب ما جاء في التأمین، حدیث: 248، امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :آمین بالجہر متواتر ہے، التمییز للإمام مسلم: 17/1 [6] صحیح البخاري، الأذان، باب جھر المأموم بالتأمین، حدیث: 782، وصحیح مسلم، الصلاۃ، باب التسمیع والتحمید والتأمین، حدیث: 410۔