کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 315
لگے:’’اٹھیں اور نماز پڑھیں ‘‘ چنانچہ آپ نے سورج غروب ہونے پر مغرب کی نماز پڑھی،پھر عشاء کے وقت آکر کہنے لگے:’’اٹھیں اور نماز پڑھیں ‘‘ چنانچہ آپ نے سرخی کے غائب ہونے پر عشاء کی نماز پڑھی،پھر صبح صادق کے وقت آئے،پھر دوسرے دن ظہر کے وقت آکر فرمانے لگے:’’اٹھیں اور نماز پڑھیں ‘‘ چنانچہ آپ نے جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوا،ظہر کی نماز پڑھی،پھر عصر کے وقت آکر کہنے لگے:’’اٹھیں اور نماز پڑھیں ‘‘ چنانچہ آپ نے جب ہر چیز کا سایہ اس کے دومثل ہوا،عصر کی نماز پڑھی،پھر مغرب کے لیے پہلے دن کے وقت ہی میں آئے،پھر آدھی یا راوی کے بقول ایک تہائی رات ہونے پر عشاء کے لیے آئے اور نماز ادا کی،پھر اچھی طرح روشنی ہونے پر صبح کے لیے آئے اور نماز ادا کی اور پھر فرمایا:’’ان دو وقتوں کے درمیان(نمازوں کے)اوقات ہیں۔‘‘[1] 5: حیض ونفاس کے خون سے پاک ہونا:اس لیے کہ حیض اور نفاس والی عورت پر نماز فرض نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’إِذَا أَقْبَلَتْ حَیْضَتُکِ فَدَعِي الصَّلَاۃَ‘ ’’جب تجھے ماہواری آجائے تو نماز ترک کر دے۔‘‘[2] ٭صحت ِنماز کی شرائط: 1: طہارت:نماز کی صحت کے لیے شرط ہے کہ آدمی بے وضو نہ ہو،جنبی نہ ہو اور اس کے کپڑے،بدن اور جگہ پلید نہ ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’لَا تُقْبَلُ صَلَاۃٌ بِغَیْرِ طُھُورٍِ‘ ’’پاکیزگی کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔‘‘[3] 2: شرم گاہ کو چھپانا:اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشار ہے:﴿خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾’’ہرمسجد(میں حاضری)کے وقت اپنے آپ کو مزین کر لیا کرو۔‘‘[4] لہٰذا سترپوشی نہ ہو تو نماز صحیح نہیں ہوتی،اس لیے کہ کپڑوں کی زینت وہی ہے جس میں ستر ہو۔مرد پر ناف سے لے کر دونوں گھٹنوں تک جسم کا ڈھانپنا ضروری ہے اور چہرے اور ہتھیلیوں کے علاوہ عورت کے لیے سارا جسم ستر ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ صَلَاۃَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ‘ ’’اللہ بالغ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں کرتا۔‘‘[5] نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا:کیا عورت قمیص اور اوڑھنی میں بغیر تہبند کے نماز پڑھ سکتی ہے۔تو آپ نے فرمایا: [1] [حسن] سنن أبي داود، الصلاۃ، باب في المواقیت، حدیث: 393۔ اس کی سند حسن ہے، اسے ترمذی، ابن خزیمہ، ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ [2] صحیح البخاري، الوضوء، باب غسل الدم، حدیث: 228، وصحیح مسلم، الحیض، بابالمستحاضۃ وغسلھا وصلاتھا، حدیث: 333۔ [3] صحیح مسلم، الطھارۃ، باب وجوب الطھارۃ للصلاۃ، حدیث: 224، و سنن أبي داود، الطھارۃ، باب فرض الوضوء، حدیث: 59۔ [4] الأعراف 31:7۔ [5] [صحیح] سنن أبي داود، الصلاۃ، باب المرأۃ تصلي بغیر خمار، حدیث: 641، یہ حدیث صحیح ہے، اسے امام ابن خزیمہ، ابن حبان، حاکم اور ذہبی نے صحیح کہا ہے اور امام ترمذی نے حسن کہا ہے۔