کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 313
فرض،سنت اور نفل نمازیں: 1 فرض نمازیں: پانچ نمازیں فرض ہیں:فجر،ظہر،عصر،مغرب اور عشاء،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد عالی ہے: ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ کَتَبَھُنَّ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلَی الْعِبَادِ،مَنْ أَتٰی بِھِنَّ،لَمْ یُضَیِّعْ مِنْھُنَّ شَیْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّھِنَّ کَانَ لَہُ عِنْدَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَھْدٌ أَنْ یُّدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ،وَمَنْ لَّمْ یَأْتِ بِھِنَّ فَلَیْسَ لَہُ عِنْدَ اللّٰہِ عَھْدٌ،إِنْ شَائَ عَذَّبَہُ وَإِنْ شَائَ غَفَرَ لَہُ)) ’’پانچ نمازیں اللہ نے بندوں پر لکھ دی ہیں،جو ان کی پابندی کرتا ہے اور بے قدری کر کے انھیں ضائع نہیں کرتا،اللہ کا اس کے لیے وعدہ ہے کہ وہ اسے بہشت میں داخل کرے گا اور جو انھیں ادا نہیں کرتا،اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی وعدہ نہیں ہے،چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو بخش دے۔‘‘[1] 2 سنت نمازیں: سنت نماز میں وتر،فجر کی دو رکعتیں،عیدین کی نماز،نماز کسوف اور نماز استسقاء داخل ہیں اور یہ سب سنت مؤکدہ ہیں۔اور غیر مؤکدہ میں تحیۃ المسجد،فرائض کے ساتھ روزمرہ کی سنتیں وضو کے بعد دو رکعت،چاشت کی نماز،قیام رمضان اور قیام اللیل شامل ہیں۔٭ 3 نفل نماز: نفل نماز میں دن،رات میں مذکورہ مؤکدہ اور غیر مؤکدہ کے علاوہ پڑھی جانے والی نمازیں بھی داخل ہیں۔ شرائط نماز: ٭شرائط فرضیت نماز: 1: اسلام:وجوب نماز کی شرطوں میں ایک اسلام ہے کیونکہ کافر پر نماز فرض نہیں ہے،اس لیے کہ نماز سے پہلے شہادتین کا اقرار ضروری ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوا أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ،وَیُقِیمُوا الصَّلَاۃَ،وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ)) ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے لڑتا رہوں،یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں۔‘‘[2] اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے لیے آپ کا فرمان ہے: ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرائض کے ساتھ سنتوں کی ترغیب وتاکید فرمائی ہے اور ساری زندگی آپ کا اس پر عمل رہا ہے،لہٰذا یہ بھی مؤکدہ سنتیں ہیں۔(الاثری) [1] [صحیح ] مسند أحمد: 316,315/5، وسنن أبي داود، الوتر، باب فیمن لم یوتر، حدیث: 1420۔ [2] صحیح البخاري، الإیمان، باب: { فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ }،حدیث: 25، وصحیح مسلم، الإیمان، باب الأمر بقتال الناس:، حدیث: 22۔