کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 309
ہوئی ہے یا خون آرہا ہے۔ہاں اگر اسے خون آرہا ہے تو مستحاضہ کی طرح اس کے احکام ہوں گے۔بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ نفاس والی عورت پچاس دن یا ساٹھ دن انتظارکرے۔مگر شرعی طور پر احتیاط اسی میں ہے کہ وہ چالیس دن ہی نفاس کے شمار کرے۔ طہر کی پہچان: ’’طہر‘‘ کی پہچان دو طرح سے ہو سکتی ہے۔اَولاً:عورت کو خالص سفید پانی آنا شروع ہو جائے۔ثانیاً:بالکل خشک ہو جائے۔روئی کا ٹکڑا اندر لے جائے اور باہر نکالے،اگر بالکل خشک ہے تو ’’طہر‘‘ کی نشانی ہے،سونے سے پہلے اور بعد ازاں اسی طرح کرے تاکہ معلوم ہو وہ حیض و نفاس سے پاک وصاف ہے یا نہیں۔ دورانِ حیض ونفاس ممنوع اور جائز امور: ٭حیض و نفاس کے ایام میں ممنوع اعمال: 1: حیض ونفاس والی عورت سے مجامعت کرنا منع ہے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ﴾’’اور اُن کے پاک ہونے تک ان کے قریب نہ جاؤ۔‘‘[1] 2: نماز اور روزہ بھی ممنوع ہے،البتہ پاک ہونے کے بعد روزے کی قضا دے گی،جبکہ نماز کی قضا نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’أَلَیْسَ إِذَا حَاضَتِ(الْمَرْأَۃُ)لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ‘ ’’کیا ایسا نہیں کہ جب عورت حیض والی ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے۔‘‘[2] اور عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہمیں روزے کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا اور نماز کی قضا کا نہیں۔‘‘ [3] 3: مسجد میں داخل نہیں ہو سکتی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَّلَا جُنُبٍ‘ ’’میں مسجد کو حیض والی عورت اور جنبی کے لیے حلال نہیں کرتا۔‘‘[4] 4: قرآن کی قراء ت بھی نہ کرے۔حدیث میں ہے:((لَا تَقْرَإِ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَیْئًا مِّنَ الْقُرْآنِ))’’جنبی مرد اور حیض والی عورت قرآن پاک نہ پڑھیں۔‘‘[5] [1] البقرۃ 222:2۔ [2] صحیح البخاري، الحیض، باب ترک الحائض الصوم، حدیث: 304۔ [3] صحیح البخاري، الحیض، باب لاتقضي الحائض الصلاۃ، حدیث: 321، وصحیح مسلم، الحیض، باب وجوب قضاء الصوم علَی الحائض دون الصلاۃ، حدیث: 335۔ [4] [حسن] سنن أبي داود، الطھارۃ، باب في الجنب یدخل المسجد، حدیث: 232، وصحیح ابن خزیمۃ: 284/2، حدیث: 1327، اس کی سند حسن ہے، اسے ابن قطان وغیرہ نے حسن کہا ہے۔ [5] [ضعیف] جامع الترمذي، الطھارۃ، باب ما جاء في الجنب والحائض:، حدیث: 131، اس کی سند اسماعیل بن عیاش کی وجہ سے ضعیف ہے۔ یہ حدیث معلول ہے، جنبی شخص قرآن کی تلاوت نہیں کرسکتا، اس بارے میں علی رضی اللہ عنہ کی حدیث گزر چکی ہے، جبکہ حیض و نفاس والی عورت قرآن چھوئے بغیر تلاوت کر سکتی ہے، اس لیے کہ منع کی کوئی ثابت دلیل موجود نہیں ۔(ع۔و)