کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 305
’’انھیں رہنے دے،میں نے جب یہ پہنے تھے تو باوضو تھا۔‘‘ اس کے بعد آپ نے ان پر مسح کیا۔[1] 2: موزے پاؤں کے اس حصے کو ڈھانپتے ہوں،جس کا دھونا ضروری ہے۔ 3: اتنے موٹے ہوں کہ ان کے نیچے سے پاؤں کا چمڑا نظر نہ آتا ہو۔ 4: مقیم کے لیے ’’مدت مسح‘‘ ایک دن اور ایک رات ہے،اس سے زائد نہیں اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ((جَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَّلَیَالِیَھُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَیَوْمًا وَّلَیْلَۃً لِّلْمُقِیمِ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے(مسح کی مدت)تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر فرمائی ہے۔‘‘[2] 5: مسح کے بعد انھیں اتارا نہ ہو،اگر موزے وغیرہ اتار لیے تو پاؤں کا دھونا ضروری ہو جائے گا،ورنہ وضو باطل قرار پائے گا۔ تنبیہ: ٭ سردی یا سفر میں ضرورت کی بنا پر پگڑی پر مسح کرنا جائز ہے۔ایک حدیث میں ہے: ’أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم تَوَضَّأَ فَمَسَحَ بِنَاصِیَتِہِ وَعَلَی الْعِمَامَۃِ‘ ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور پیشانی کے بالوں(سر کے اگلے حصے)اور پگڑی پر مسح کیا۔‘‘[3] اس کی صورت یہ ہو گی کہ سر کے اگلے حصے(پیشانی کے بالوں)پر اور باقی پگڑی پر مسح کیا جائے،جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ٭ موزے،جرابوں اور سر ڈھانپنے والے کپڑے پر مسح کرنے میں مرد وعورت میں کوئی فرق نہیں ہے،جس طرح مردوں کے لیے ان اشیاء پر مسح کرنا جائز ہے،ایسے ہی عورتوں کے لیے بھی جائز ہے۔ مسح کرنے کا طریقہ: موزے پر مسح کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ کو تر کر کے پاؤں کی انگلیوں کی طرف سے شروع کر کے پنڈلی کی جانب چھوتا ہوا لائے۔اور یہ صرف اوپر کے حصے پر ہی کرنا ہو گا،نیچے کی طرف نہیں،جیسا کہ [1] صحیح البخاري، الوضوء، باب إذا أدخل رجلیہ وھما طاھرتان، حدیث: 206، وصحیح مسلم، الطھارۃ، باب المسح علَی الخفین، حدیث: 274، اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وضو کے دوران باتیں کرنا منع نہیں ہے۔ [2] صحیح مسلم، الطھارۃ، باب التوقیت في المسح علَی الخفین، حدیث: 276۔ [3] صحیح مسلم، الطھارۃ، باب المسح علی الناصیۃ والعمامۃ، قبل الحدیث: 275۔