کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 303
تیمم کے فرائض اور اس کی سنتیں: ٭تیمم کے فرائض: 1: نیت:حدیث میں ہے:’إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ،وَإِنَّمَا لِکُلِّ امْرِیئٍ مَّا نَوٰی‘’’عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے اور انسان کے لیے وہی ہے،جو وہ نیت کرے۔‘‘[1] لہٰذا ’’تیمم‘‘ کرتے وقت دل میں یہ ارادہ ضروری ہے کہ اس ذریعہ سے وہ نماز وغیرہ کی ادائیگی اپنے لیے جائز کر رہا ہے،جو کہ اس سے قبل ممنوع تھی۔ 2: سطح زمین کا پاک ہونا،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾’’پھر پاک سطح زمین کا قصد کرو۔‘‘[2] 3: ایک بار دونوں ہاتھوں کو مٹی پر مارنا۔٭ 4: چہرے اور دونوں ہاتھوں کا پہنچوں تک مسح کرنا،ارشاد حق تعالیٰ ہے:﴿فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ﴾’’اور اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرو۔‘‘[3] ٭تیمم کی سنتیں: 1: ’’ بسم اللہ‘‘ سے شروع کرنا۔اس لیے کہ یہ ہر اچھے کام سے پہلے مشروع ہے۔ نواقض تیمم اور جو کام تیمم سے جائز و مباح ہو جاتے ہیں: ٭نواقض تیمم: تیمم دو وجہ سے ٹوٹ جاتا ہے۔1:وہ سب امور جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ’’تیمم‘‘ چونکہ وضو کا بدل ہے،لہٰذا ان سے وہ بھی ٹوٹ جائے گا۔ 2: نماز شروع کرنے سے پہلے پانی مل جائے یا نماز کے دوران ہی پانی حاصل ہو جائے تو بھی تیمم ختم ہو جائے گا اور وضو کرنا ضروری ہو گا۔اگر نماز سے فارغ ہونے کے بعد پانی حاصل ہوا تو اس صورت میں تیمم کے ساتھ پڑھی گئی نماز درست ہو گی اور اس کا اعادہ ضروری نہیں۔٭ ٭ صحیح احادیث میں ’’تیمم‘‘ کا طریقہ ایک بار مٹی پر ہاتھ مارنا ہے۔دوسری مرتبہ کی روایت مرفوعاً ثابت نہیں ہے۔صحیح بخاری اورصحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’تیمم‘‘ میں زمین پر ایک بار دونوں ہاتھ مارے اور چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا۔(الاثری)دیکھیے صحیح البخاري،التیمم،باب التیمم ضربۃ،حدیث:347،وصحیح مسلم،الحیض،باب التیمم،حدیث:368۔٭ سنن ابوداود میں صحیح حدیث آئی ہے کہ حالتِ سفر میں پانی نہ ملنے کی وجہ سے دو آدمیوں نے تیمم کے ساتھ نماز پڑھی،پھر نماز کا وقت گزرنے سے پہلے پہلے انھیں پانی مل گیا تو ان میں سے ایک شخص نے وضو کرکے نماز دوبارہ پڑھی،جبکہ دوسرے نے نہیں پڑھی،پھر سفر سے واپسی پر انھوں نے یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے اس شخص سے جس نے نماز دوبارہ نہیں پڑھی تھی فرمایا:’أَصَبْتَ السُّنَّۃَ وَ أَجْزَأَتْکَ صَلَاتُکَ‘ ’’تونے سنت پالی اور تیری نماز درست ہے۔‘‘ اور جس نے وضو کرکے دوبارہ نماز پڑھی تھی،اس سے فرمایا:’لَکَ الْأَجْرُ مَرَّتَیْنِ‘ تیرے لیے دوہرا اجر ہے۔‘‘ سنن أبي داود،حدیث:338۔(ع۔و) [1] صحیح البخاري، بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي إلٰی رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم :، حدیث: 1، وصحیح مسلم، الإمارۃ، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : ’إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ‘ :، حدیث: 1907۔ [2] النسآء 43:4۔ [3] النسآء 43:4۔