کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 296
ہوا خارج ہوئی ہے یا نہیں،اس لیے وضو ٹو ٹنے ہی کا حکم لگایا جاتا ہے۔ 4: ہاتھ کے ساتھ شرم گاہ کو چھونا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’مَنْ مَّسَّ ذَکَرَہُ فَلَا یُصَلِّ حَتّٰی یَتَوَضَّأَ‘ ’’جو اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگائے،وہ(نیا)وضو کیے بغیر نماز نہ پڑھے۔‘‘[1] 5: ’’ارتداد‘‘ بایں طور کہ کوئی کفریہ لفظ بول دے تو اس سے بھی وضو ٹوٹ جائے گا اور تمام تعبدی(عبادت کے)اعمال باطل ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ﴾’’اگر تونے شرک کیا تو تیرے عمل ضرور ضائع ہو جائیں گے۔‘‘[2] 6: اونٹ کا گوشت کھانے سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا:کیا ہم بھیڑ،بکری کے گوشت سے وضو کریں ؟ آپ نے فرمایا:’’اگر تو چاہے تو وضو کر لے اگر چاہے تو نہ کر ‘‘ اس نے عرض کی:کیا ہم اونٹ کے گوشت سے وضو کریں ؟ تو آپ نے فرمایا:’’ہاں۔‘‘ [3] 7: عورت کو شہوت کے ساتھ ہاتھ لگانا۔اس لیے کہ شہوت کا ارادہ شہوت کے حکم میں ہے اور ’’ناقض وضو ‘‘ہے،جیسا کہ شرم گاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو کا حکم صادر ہوا ہے،اس لیے کہ شرم گاہ کو ہاتھ لگانا شہوت کو ابھارتا ہے اور موطأ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عورت کو بوسہ دینا اور اسے ہاتھ لگانا ’’ملامست‘‘ ہے،جو اپنی عورت کو بوسہ دے یا اسے ہاتھ لگائے اس پر وضو ہے۔[4] سلس البول والا شخص اور مستحاضہ عورت کیا کرے؟: 1: ’’سلسل البول‘‘ میں مبتلا شخص،(جسے پیشاب کے قطرے آتے رہتے ہیں)یا جس کی ہوا خارج ہوتی رہتی ہے،اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے،جیسا کہ استحاضہ والی عو رت کے لیے حکم ہے۔ 2: استحاضہ والی عورت وہ ہے،جسے ایام عادت کے علاوہ خون آتا رہے،اس کے لیے بھی یہی حکم ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے نیا وضو کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تھا: ’ثُمَّ تَوَضَّئِي لِکُلِّ صَلَاۃٍ‘ ’’پھر تو ہر نماز کے لیے وضو کر۔‘‘[5] [1] [صحیح ] جامع الترمذي، الطھارۃ، باب الوضوء من مس الذکر، حدیث: 82۔ [2] الزمر 65:39۔ [3] صحیح مسلم، الحیض، باب الوضوء من لحوم الإبل، حدیث: 360۔ [4] الموطأ للإمام مالک، الطہارۃ، باب الوضوء من قبلۃ الرجل امرأتہ، حدیث: 99۔ اس نظریے کے قائلین کا اصل استدلال آیت مبارکہ﴿ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ... ﴾ ہے، جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قول میں بھی یہی اشارہ ہے، جبکہ صحیح تفسیر یہ ہے کہ یہاں ملامست سے مراد جماع ہی ہے، اس لیے کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کو بوسہ دیا تھا اور وضو نہیں کیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی یہی تفسیر کی ہے۔(الاثری) [5] [ضعیف] سنن أبي داود، الطھارۃ، باب من قال تغتسل من طھر إلٰی طھر، حدیث: 298 واللفظ لہ، وجامع الترمذي، الطھارۃ، باب ماجاء أن المستحاضۃ تتوضأ لکل صلاۃ، حدیث: 127,126 اس روایت کی دونوں سندیں ضعیف ہیں ۔