کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 288
وغیرہ۔اس لیے کہ منافع ضائع کرنا اور مصالح کو خراب کرنا شرعاً حرام ہے۔ 2: دائیں ہاتھ سے ڈھیلے استعمال کرنا،استنجا کرنا یا شرم گاہ کو چھونا حرام ہے۔ ارشاد نبوی ہے:((لَا یُمْسِکَنَّ أَحَدُکُمْ ذَکَرَہُ بِیَمِینِہِ وَھُوَ یَبُولُ،وَلَا یَتَمَسَّحْ مِنَ الْخَلَائِ بِیَمِینِہِ)) ’’تم میں سے کوئی پیشاب کرتے وقت اپنے ذکر(شرم گاہ)کو اپنے دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے۔‘‘[1] 3: طاق ڈھیلے استعمال کرے،اگر تین کے ساتھ صفائی نہ ہو تو پانچ استعمال کرے۔سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ((نَھَانَا(رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم)أَنْ نَّسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ لِغَائِطٍ أَوْبَوْلٍ،أَوْ أَنْ نَّسْتَنْجِيَ بِالْیَمِینِ أَوْ أَنْ نَّسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَۃِ أَحْجَارٍ،أَوْ أَنْ نَّسْتَنْجِيَ بِرَجِیعٍ أَوْ بِعَظْمٍ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کیا ہے کہ پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں یا دائیں ہاتھ سے استنجا کریں یا تین ڈھیلوں سے کم سے استنجا کریں یا لید اور ہڈی سے استنجا کریں۔‘‘[2] 4: ڈھیلے اور پانی کے استعمال میں پہلے ڈھیلے اور بعد ازاں پانی سے استنجا کرے۔اگر ایک پر کفایت کرنا چاہے تو بھی جائز ہے،البتہ پانی بہتر ہے۔ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتی ہیں:((مُرْنَ أَزْوَاجَکُنَّ أَنْ یَّسْتَطِیبُوا بِالْمَائِ فَإِنِّي أَسْتَحْیِیھِمْ،فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم کَانَ یَفْعَلُہُ)) ’’اپنے خاوندوں سے کہو کہ پانی کے ساتھ استنجا کیا کریں۔مجھے ان سے(یہ بات کرتے)شرم آتی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔‘‘[3] قضائے حاجت سے فارغ ہونے کے بعد کے آداب: 1: بیت الخلاء(لیٹرین)سے نکلتے وقت پہلے دایاں پاؤں باہر رکھے۔اور یہ دعا پڑھے:’غُفْرَانَکَ‘ ’’(اے اللہ!میں)تیری مغفرت طلب کرتا ہوں۔‘‘[4] یا یہ دعا پڑھے:((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي أَذْھَبَ عَنِّي الْأَذٰی وَعَافَانِي)) ’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے،جس نے مجھ سے گندگی دور کر کے مجھے عافیت دی۔‘‘[5] [1] صحیح البخاري، الوضوء، باب النھي عن الاستنجاء بالیمین، حدیث: 153، وصحیح مسلم، الطھارۃ، باب النھي عن الاستنجاء بالیمین، حدیث: 267 واللفظ لہ۔ [2] صحیح مسلم، الطھارۃ، باب الاستطابۃ، حدیث: 262۔ [3] [صحیح] جامع الترمذي، الطھارۃ، باب ما جاء في الاستنجاء بالماء، حدیث: 19۔ [4] [صحیح] سنن أبي داود، الطھار ۃ، باب ما یقول الرجل إذا خرج من الخلاء، حدیث: 30، وجامع الترمذي، الطھارۃ، باب ما یقول إذا خرج من الخلاء، حدیث: 7 وقال حسن غریب۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے، اسے امام ابن خزیمہ، ابن حبان، حاکم اور ذہبی نے صحیح کہا ہے۔ [5] [ضعیف] سنن ابن ماجہ، الطھارۃ و سننھا، باب مایقول إذا خرج من الخلاء، حدیث: 301، اس کی سند اسماعیل بن مسلم کی وجہ سے ضعیف ہے۔