کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 284
باب:1 طہارت کا بیان طہارت کا حکم اور اس کی اقسام: 1. طہارت کا حکم: کتاب وسنت کی رو سے طہارت واجب وفرض ہے۔فرمان الٰہی ہے:﴿وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا﴾’’اور اگر تم جنبی ہو تو طہارت حاصل کرو۔‘‘[1] نیز ارشاد ربانی ہے:﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ﴾’’اور آپ اپنے کپڑے پاک رکھیں۔‘‘[2] نیز ارشاد حق تعالیٰ ہے:﴿إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ﴾ ’’بے شک اللہ بہت توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘[3] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’مِفْتَاحُ الصَّلَاۃِ الطُّھُورُ‘ ’’نماز کی چابی طہارت(وضو)ہے۔‘‘[4] نیز فرمایا:’لَا تُقْبَلُ صَلَاۃٌ بِغَیْرِ طُھُورٍ‘ ’’وضو کے بغیر نماز قبول نہیں کی جاتی۔‘‘[5] مزید ارشاد ہے:’اَلطُّھُورُ شَطْرُ الإِْیمَانِ‘ ’’طہارت و پاکیزگی نصف ایمان ہے۔‘‘[6] 2. طہارت کی اقسام: طہارت کی دو قسمیں ہیں:ظاہری اور باطنی ٭ظاہری طہارت:اس کی دو قسمیں: (1)پلیدی اور نجاست سے طہارت، (2)طہارت حَدَث،یعنی حکمِ نجاست(جنابت،حیض و نفاس اور بے وضو ہونے سے پاک صاف ہوجانا)۔نمازی پر لازم ہے کہ وہ لباس،بدن اور نماز کی جگہ کو پاک پانی کے ساتھ نجاست زائل کر کے پاک بنائے،حَدَث سے طہارت وضو،غسل اور تیمم سے حاصل ہوتی ہے۔ ٭باطنی طہارت: نفس کو گناہ اور نافرمانی کے اثرات سے پاک اور صاف رکھنا،اس کے لیے گناہوں اور نافرمانیوں سے سچی توبہ کی ضرورت ہوتی ہے اور دل کو شرک،شک،حسد،غصہ،کینہ،خیانت،بڑائی،خودپسندی،ریا اور نمود ونمائش کی آلودگیوں سے منزہ وپاک کرنا ہے۔اس کے لیے اخلاص،یقین،نیکی کی محبت،حوصلہ،سچائی،تواضع اور تمام ارادوں اور [1] المآئدۃ 6:5۔ [2] المدثر 4:74۔ [3] البقرۃ 222:2۔ [4] [حسن] سنن أبي داود، الطھارۃ، باب فرض الوضوء، حدیث: 61، اسے امام بغوی اور نووی نے حسن کہا ہے۔ [5] صحیح مسلم، الطھارۃ، باب وجوب الطھارۃ للصلاۃ، حدیث: 224۔ [6] صحیح مسلم، الطھارۃ، باب فضل الوضوء، حدیث : 223۔