کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 274
’لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَیْنِ:رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ الْقُرْآنَ فَھُوَ یَتْلُوہُ آنَائَ اللَّیْلِ وَآنَائَ النَّھَارِ،وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَھُوَ یُنْفِقُہُ آنَائَ اللَّیْلِ وَآنَائَ النَّھَارِ‘ ’’دو آدمیوں ہی پر رشک کیا جاسکتا ہے:ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ قرآن عطا کرتا ہے اور وہ اسے دن رات تلاوت کرتا ہے اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ مال عطا کرتا ہے اور وہ دن رات اسے(اللہ کی راہ میں)خرچ کرتا ہے۔‘‘[1] لیکن’’ حسد‘‘دونوں انداز میں قطعی طور پر حرام ہے۔کسی بھی چیز کے لیے کسی پر حسد روا رکھنا جائز نہیں ہے،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللّٰهُ مِن فَضْلِهِ﴾’’کیا یہ لوگوں سے اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے فضل پر حسد کرتے ہیں۔‘‘[2] حاسدین کی مذمت کرتے ہوئے ایک مقام پر فرمایا:﴿حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم﴾’’خود حسد کرتے ہوئے۔‘‘[3] دوسری جگہ حسد سے بچنے کی دعا سکھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ﴾ ’’(اے اللہ!میں تیری پناہ چاہتا ہوں)حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔‘‘[4] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا،وَکُونُوا عِبَادَ اللّٰہِ إِخْوَانًا،وَلَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ یَّھْجُرَ أَخَاہُ فَوْقَ ثَلَاثٍ‘ ’’ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو،حسد نہ کرو،اعراض نہ کرو اور قطع تعلقی نہ کرو۔اے اللہ کے بندو!بھائی بھائی بن جاؤ۔کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ تین دن سے زیادہ گفتگو ترک کرے۔‘‘[5] اور فرمایا:((إِیَّاکُمْ وَالْحَسَدَ،فَإِنَّ الْحَسَدَ یأْکُلُ الْحَسَنَاتِ،کَمَا تَأکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ))’’حسد سے بچو!یہ نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے،جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔‘‘[6] اگر بشر اور غیر معصوم ہونے کے ناطے مسلمان کے دل میں حسد آ بھی جائے تو وہ فورًا اسے رفع کرتا ہے اور اسے ناپسند کرتا ہے،اس لیے کہ ایک خیال بار بار دل میں آنے کی صورت میں عزم بن جاتا ہے اور اس پر عمل ہلاکت و بربادی ہے۔اگر اسے کوئی چیز پسند آتی ہے تو کہتا ہے: ’مَاشَائَ اللّٰہُ،لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ‘ ’’جو اللہ چاہے،ہر کام کی طاقت وقوت اللہ کے پاس ہے۔‘‘[7] [1] صحیح البخاري، التوحید، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ’رجل آتاہ اللّٰہ القرآن:‘، حدیث: 7529۔ [2] النسآء 54:4۔ [3] البقرۃ 109:2۔ [4] الفلق 5:113۔ [5] صحیح البخاري، الأدب، باب الھجرۃ، حدیث: 6076، وصحیح مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم التحاسد:، حدیث: 2559 واللفظ لہ۔ [6] [ضعیف] سنن أبي داود، الأدب، باب في الحسد، حدیث: 4903، اس کی سند ابراہیم بن ابی اسید کے غیر معروف دادا کی وجہ سے ضعیف ہے امام بخاری نے کہا:’’لا یصح۔‘‘ [7] شعب الإیمان للبیہقي: 90/4، حدیث: 4370۔