کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 269
میں دھنستا رہے گا۔‘‘[1] تواضع کے مظاہر: ٭ جو انسان اپنے جیسوں سے آگے چلنے کی کوشش کرے،وہ متکبر ہے اور جو پیچھے رہے،وہ متواضع ہے۔ ٭ صاحب علم و فضل کی ملاقات کے لیے اٹھے،اسے بٹھائے اور اس کے جوتے سیدھے کرے اور گھر کے دروازے تک اس کے ساتھ جا کر الوداع کرے،یہ شخص متواضع ہے۔ ٭ زیادتی کرنے والے کے ساتھ خوشی و انبساط سے ملنا۔سوال میں نرمی کا اظہار،اس کی دعوت قبول کرنا،اس کا کام کر دینا اور اپنے آپ کو اس سے بہتر نہ سمجھنا بھی تواضع ہے۔ ٭ جوشخص اپنے سے علم و فصل میں کم تر یا برابر کی ملاقات کو جائے،اس کے ساتھ سامان اٹھائے یا اس کے کام کے لیے اس کے ساتھ جائے،وہ متواضع ہے۔ ٭ فقراء،مساکین اور مصیبت زدہ لوگوں کے پاس بیٹھنے والا،ان کے ساتھ کھانا کھانے اور ان کے ساتھ راستہ میں چلنے والا بھی متواضع کہلائے گا۔ ٭ کھانے پینے میں اسراف سے بچنے اور لباس میں تکبر و غرور سے احتراز کرنے والا بھی متواضع ہے۔ تواضع کی چند عظیم مثالیں: 1: عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ رات کو لکھ رہے تھے کہ ان کے پاس ایک مہمان آگیا۔چراغ بجھ رہا تھا،مہمان چراغ درست کرنے کے لیے جانے لگا تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا:مہمان سے خدمت لینا کرم و شرف کے خلاف ہے۔مہمان نے کہا:میں نوکر کو اٹھا دیتا ہوں۔عمر رحمہ اللہ نے فرمایا:وہ ابھی ابھی سویا ہے،اسے اٹھانا مناسب نہیں ہے،چنانچہ خود اٹھے تیل کی بوتل سے چراغ بھر کر روشن کر دیا،جب مہمان نے کہا:آپ نے خود ہی یہ کام کر لیا ہے۔تو فرمایا:میں پہلے بھی عمر تھا اور اب بھی وہی ہوں،میرے اندر کوئی بھی کمی نہیں ہوئی اور انسانوں میں اچھا وہ ہے جو اللہ کے ہاں متواضع ہے۔ 2: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے مدینہ کے بازار سے گزر رہے تھے اور وہ ان دنوں مدینہ میں مروان کے قائم مقام تھے اور فرما رہے تھے کہ ’’امیر(ابوہریرہ خود)آ رہا ہے،گزرنے کے لیے راستہ کھلا کر دو،اس لیے کہ وہ لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے ہے۔‘‘[2] 3: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک دن بائیں ہاتھ میں گوشت اٹھائے ہوئے تھے اور دائیں میں درہ تھا اور یہ ان دنوں [1] صحیح البخاري، اللباس، باب من جرثوبہ من الخیلاء، حدیث: 5789، و صحیح مسلم، اللباس، باب تحریم التبختر في المشي مع إعجابہ بثیابہ، حدیث: 2088۔ [2] البدایۃ والنہایۃ: 120/8۔