کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 257
دور کرنا اور ان کے حق میں دعا و استغفار کرنا،ان کے وعدے پورے کرنا اور ان کے دوستوں کی عزت واکرام کرنا۔ دوسرے قرابت داروں کے لیے احسان میں یہ پہلو مدنظر رہے کہ ان سے حسن سلوک،نرمی،مہربانی اور اچھا برتاؤ کیا جائے،برائی اورقبیح قول وفعل سے اجتناب کیا جائے۔ یتیموں کے لیے احسان میں ان کے اموال کی حفاظت کرنا،ان کے حقوق کا تحفظ،انھیں آداب سکھانا اور اچھی تربیت کرنا داخل ہے۔اسی طرح انھیں ایذا نہ دی جائے اور ان پر قہر و ظلم روا نہ رکھا جائے بلکہ ان کے سر پر دست شفقت رکھا جائے۔ مساکین کے لیے احسان یہ ہے کہ ان کی بھوک دور کی جائے،ان کولباس اس انداز سے مہیا کیا جائے کہ ان کی عزتِ نفس مجروح نہ ہونے پائے۔انھیں حقیر نہ سمجھا جائے،معیوب نہ جانا جائے اور انھیں برے الفاظ اور ناپسند افعال کا ہدف نہ بنایا جائے۔ مسافر کے لیے احسان میں اس کی ضرورت پوری کرنا،بھوک دور کرنا،اس کے مال وعزت کی حفاظت کرنا،راستہ پوچھے تو بتانا اور بھٹک جائے تو راہ راست دکھانا داخل ہے۔ خادم کے لیے احسان اس طرح ہے کہ پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی اجرت ادا کی جائے۔جو کام اس کے ذمہ نہیں،وہ اس سے نہ لیا جائے،اس کی طاقت سے زیادہ کام نہ لینا،اس کی عزت اور شخصیت کا احترام کرنا،اگر گھر کا خادم ہو تو اسے گھر والوں جیسا کھانا کھلانا اور اسے انھی کے معیار کا لباس دینا۔ عام لوگوں کے لیے احسان میں یہ باتیں داخل ہیں کہ ان کے ساتھ گفتگو میں نرمی،لین دین میں اچھا انداز،امربالمعروف،نہی عن المنکر کا اہتمام کرنا،بھٹک جائے تو راستہ بتانا،جاہل ہے تو تعلیم دینا،انھیں انصاف مہیا کرنا،ان کے حقوق کا اعتراف،ان سے تکلیف اور ایذا دور کرنا اور کوئی ایسا کام نہ کرنا جو عام لوگوں کے لیے نقصان دہ اور ایذا کا باعث بن جائے۔ حیوان کے لیے احسان یہ ہے کہ بھوکا ہے تو اسے چارہ مہیا کرے،بیمار ہو جائے تو علاج کرے،طاقت سے زیادہ اس سے کام نہ لے،اس پر اتنا بوجھ نہ لادے جسے وہ برداشت نہ کر سکے،کام لینے میں اس سے نرم رویہ اپنائے اور تھک جائے تو اسے آرام کرنے کا موقع دے۔ بدنی کاموں میں احسان یہ ہے کہ کام عمدہ اور مضبوط ہو اور اس میں دھوکا وخیانت نہ ہو،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا‘ ’’جو ہمارے ساتھ دھوکا کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘[1] [1] صحیح مسلم، الإیمان، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ’من غشنا فلیس منا‘، حدیث: 101۔