کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 252
رحمت کی وجہ سے ہے جو اللہ نے اپنے رحم کرنے والے بندوں کے دلوں میں ودیعت کی ہے۔ 4: بیان کیا جاتا ہے کہ زین العابدین علی بن حسین رحمہم اللہ مسجد کی طرف جارہے تھے کہ انھیں ایک شخص نے گالی دی،خدام اسے مارنے کے لیے دوڑے تو انھوں نے انھیں جذبہ’ ’ترحم‘‘کے تحت منع کر دیا اور فرمایا:’’صاحب میں تو اس سے بھی زیادہ ہوں جتنا تو کہہ رہا ہے اور میری جو باتیں تو نہیں جانتا،وہ ان سے زیادہ ہیں جو تو جانتا ہے۔اگر تجھے ان سے کوئی مطلب ہے تو بیان کردوں۔‘‘چنانچہ وہ آدمی شرمندہ اور نادم ہوا۔زین العابدین رحمہم اللہ نے اپنی قمیض اس کواتار کر دے دی اور ایک ہزار درہم نقد بھی دیے۔ یہ معاف کرنا اور یہ احسان سے نوازنا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کے دل میں رحمت ومہربانی کی وجہ ہی سے تو تھا۔ باب:7 شرم وحیا ’’حیا‘‘ مسلمان کی صفت ہے،وہ باحیا ہوتا ہے اور عفت اس کا زیور ہے۔حیا ایمان کا ایک جزو ہے اور ایمان مسلمان کا عقیدہ اور اس کی زندگی کی درستی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’اَلإِْیمَانُ بِضْعٌ وَّسَبْعُونَ أَوْ بِضْعٌ وَّ سِتُّونَ شُعْبَۃً،فَأَفْضَلُھَا قَوْلُ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ،وَأَدْنَاھَا إِمَاطَۃُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِیقِ،وَالْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الإِْیمَانِ‘ ’’ایمان کی ستر یا ساٹھ سے اوپر شاخیں ہیں،افضل شاخ ’’لا الہ الا اللہ‘‘اور کم ترشاخ،راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔‘‘[1] اور فرمایا:’اَلْحَیَائُ وَالإِْیمَانُ قُرَنَائُ جَمِیعًا،فَإذَا رُفِعَ أَحَدُھُمَا رُفِعَ الْآخَرُ‘ ’’حیا اور ایمان دو ساتھی ہیں،جب ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھالیا جاتا ہے۔‘‘[2] ’’حیا‘‘ایمان کا جزو ہے۔اس میں بنیاد یہ ہے کہ دونوں خیرکے داعی اور شر سے انسان کو دور کرتے ہیں،ایمان اطاعت کے کام کرنے اور گناہ چھوڑنے پر آمادہ کرتا ہے اور حیا منعم کے انعامات کا شکریہ ادا کرنے میں کمی اور صاحب حق کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے سے روکتا ہے،باحیا انسان گندے کام نہیں کرتا اور بُرے الفاظ نہیں بولتا،اس لیے کہ وہ مذمت اور ملامت سے ڈرتا ہے،اسی بنیاد پر حیا خیر ہی خیر ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: [1] صحیح مسلم، الإیمان، باب بیان عدد شعب الإیمان:، حدیث: 35۔ [2] [حسن] المستدرک للحاکم: 22/1، امام حاکم اور ذہبی نے اسے امام بخاری اور مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔