کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 249
عادی ہو جاتا ہے۔میانہ روی انسان کے لیے کتنے شرف وفخر کی بات ہے،حق تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَأَن لَّوِ اسْتَقَامُوا عَلَى الطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَاهُم مَّاءً غَدَقًا﴾ ’’اور اگر یہ لوگ سیدھے راستہ پر چلتے توہم انھیں بہت پانی پلاتے۔‘‘ [1] اور فرمایا:﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴿١٣﴾أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ ’’بے شک جن لوگوں نے کہا:’’ہمارا رب اللہ ہے‘‘پھر(اس پر)سیدھے رہے تو انھیں نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔یہی لوگ بہشت والے ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(یہ)ان عملوں کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے۔‘‘[2] باب:6 شفقت ورحمت مسلمان رحمدل ہوتا ہے اور رحم کرنا اس کی عادت ہے کہ یہ صفت نفس وروح کی پاکیزگی اور صفائی کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے اور مسلمان نیک کام کرنے اور شرو مفاسد سے دور رہنے کی وجہ سے نفس وروح کی طہارت وصفائی کا حامل ہوتا ہے اور ایسا انسان کبھی بھی صفت رحمت سے عاری نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ وہ خود بھی رحمت و شفقت کو پسند کرتا ہے اور دوسروں کو بھی اس کی تاکید کرتا رہتا ہے بلکہ اس کا ہمہ وقت داعی ہوتا ہے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ﴿١٧﴾أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ﴾ ’’پھر وہ ان لوگوں سے ہوتا ہے جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو صبر اور رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے۔یہی لوگ دائیں جانب(سعادت)والے ہیں۔‘‘[3] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’إِنَّمَا یَرْحَمُ اللّٰہُ مِنْ عِبَادِہِ الرُّحَمَائَ‘ ’’اللہ اپنے بندوں میں سے ان پر رحم کرتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔‘‘[4] نیز فرمایا:’اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ یَرْحَمْکُمْ مَّنْ فِي السَّمَائِ‘ ’’تم زمین والوں پر رحم کرو،آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔‘‘[5] [1] الجن 16:72۔ [2] الأحقاف 14,13:46 [3] البلد 18,17:90۔ [4] صحیح البخاري، التوحید، باب ما جاء في قول اللّٰہ تعالٰی: ﴿ إِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ ﴾، حدیث: 7448۔ [5] جامع الترمذي، البروالصلۃ، باب ماجاء في رحمۃ الناس، حدیث: 1924، والمعجم الکبیر للطبراني: 356/2، حدیث: 2502، والمستدرک للحاکم: 248/4، بسند آخر، امام حاکم اور ذہبی نے اسے صحیح قرار دیا ہے، سنن ابو داود (حدیث: 4941)میں اس کا ایک حسن درجے کا شاہد موجود ہے۔