کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 245
سے یہ ثابت ہوا کہ ایک سچا مسلمان اس انداز کی قربانی پیش کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنی جان کی بازی لگانے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ 2: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مہمان کو ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کھانا کھلانے کے لیے لے گئے،اس کے آگے کھانا رکھا،بیوی کو کہہ کر کسی بہانے سے چراغ گل کرا دیا اور خود کھانا کھانے کے انداز سے ہاتھ بڑھاتے رہے اور کھایا نہیں،مہمان سیر ہو گیا،صبح ہوئی تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس ایثار ومحبت کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی اور آیت مبارکہ نازل ہوئی۔﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ ’’اور وہ اپنے آپ پر(دوسروں کو)ترجیح دیتے ہیں،چاہے خود محتاج ہوں۔‘‘[1] 3: حذیفہ عدوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ یرموک کے موقع پر میں اپنے چچیرے بھائی کی تلاش میں زخمیوں کو دیکھ رہا تھا۔میرے پاس کچھ پانی تھا اور میں کہہ رہا تھا کہ اگراس میں زندگی کی کچھ رمق باقی ہوئی تو میں اسے پلادوں گا اور اس سے اس کا چہرہ صاف کردوں گا،چنانچہ وہ مجھے مل گیا،میں نے اس سے پانی کا پوچھا تو اس نے اثبات میں سرہلایا کہ اچانک دوسری طرف سے ایک اور زخمی کے کراہنے کی آواز آئی تو اس نے مجھ سے اس کی طرف جانے کا کہا،اس کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ ہشام بن عاص رضی اللہ عنہ ہیں۔انھیں پانی پیش کر رہا تھا کہ کسی اور طرف سے کراہنے کی آواز آئی ہشام بن عاص رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف جانے کا اشارہ دیا۔میں ادھر گیا تو وہ مجاہد فوت ہو چکا تھا،پھر ہشام رضی اللہ عنہ کی طرف پلٹا تو وہ بھی فوت ہوگئے تھے اور آخر میں اپنے چچیرے بھائی کے پاس آیا تو وہ بھی اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔[2] ان تینوں شہداء نے ایثار وقربانی کی اعلیٰ مثال پیش کی ہے اور مسلمان کی تو ساری زندگی اس انداز سے گزرتی ہے۔ 4: مروی ہے کہ ابو الحسن الانطاکی رحمہ اللہ کے پاس تیس سے زائد آدمی جمع تھے اور ان کے پاس کھانے کے لیے چند روٹیاں تھیں،جو ان کے لیے کافی نہیں تھیں،انھوں نے روٹیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور چراغ بجھا دیا اور پھر کھانے کے لیے بیٹھ گئے،دستر خوان اٹھایا گیا تو پتہ چلا کہ ساری روٹیاں اسی طرح موجود ہیں،اس لیے کہ کسی نے بھی وہ روٹیاں نہیں کھائیں ہر ایک کی یہ تمنا تھی کہ دوسرا کھالے گا۔بھوک میں مبتلا ہر مسلمان واقعی ایثار اور حب خیرکی یہی مثال پیش کرتا ہے۔[3] 5: منقول ہے کہ بشر بن حارث رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص آیا،جبکہ وہ بیمار تھے اس شخص نے اپنی ضرورت کا اظہار کیا۔بشر رحمہ اللہ نے اپنی قمیض اتار کر اسے دے دی اور خود عاریتاً ایک قمیض منگوائی اور اس میں وہ فوت ہوئے۔[4] [1] الحشر 9:59، و صحیح البخاري، التفسیر، باب قولہ تعالٰی: ﴿ وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ ﴾ ، حدیث: 4889، وصحیح مسلم، الأشربۃ، باب إکرام الضیف وفضل إیثارہ، حدیث: 2054۔ [2] البدایۃ والنہایۃ: 12/4۔ [3] تفسیر القرطبي: 20/18۔ [4] تفسیر القرطبي: 20/18۔