کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 232
﴿وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ﴿١٣٣﴾الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾’’اور اپنے رب کی مغفرت اور بہشت،جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جتنی ہے،کی طرف تیزی سے چلو،یہ پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے،جو خوشی اور تنگی میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں۔اور اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘[1] اللہ تعالیٰ نے انھی اخلاق فاضلہ کی تکمیل کے لیے اپنا رسول مبعوث فرمایا۔جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْأَخْلَاقِ‘ ’’میں اخلاق کریمہ کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔‘‘[2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات عالیہ میں محاسن اخلاق کی فضیلت واہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’مَا مِنْ شَيْئٍ أَثْقَلُ فِي الْمِیزَانِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ‘’’میزان میں اچھے اخلاق سے زیادہ کوئی چیز بھاری نہیں ہے۔‘‘[3] اور فرمایا:’اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ‘ ’’نیکی اچھے اخلاق(کا نام)ہے۔‘‘[4] مزید فرمایا:’أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِینَ إِیمَانًا أَحْسَنُھُمْ خُلُقًا‘ ’’مومنوں میں،کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اخلاق میں سب سے اچھے ہیں۔‘‘[5] نیز فرمایا:’إِنَّ مِنْ أَحَبِّکُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَکُمْ أَخْلَاقًا‘ ’’بے شک تم میں سے وہ لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں جو اخلاق میں سب سے اچھے ہیں۔‘‘[6] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ کون سا عمل بہشت میں جانے کا سبب بنے گا؟ تو آپ نے فرمایا: ’تَقْوَی اللّٰہِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ‘ ’’اللہ کا ڈر اور اچھی عادت۔‘‘[7] ارشاد نبوی ہے: [1] اٰل عمرٰن 134,133:3۔ [2] [حسن ] الأدب المفرد للبخاري، حدیث: 273، ومسند أحمد: 381/2، وسلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، حدیث: 45، اسے امام حاکم (613/2)اور ذہبی نے امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح قرار دیا ہے گو ابن عجلان کے سماع کی تصریح نہیں ملی لیکن اس کے کئی شواہد ہیں جن سے یہ روایت حسن لغیرہ کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے۔ واللہ اعلم۔ [3] [صحیح ] سنن أبي داود، الأدب، باب في حسن الخلق، حدیث: 4799 [4] صحیح مسلم،البر والصلۃ، باب تفسیر البر والإثم، حدیث: 2553۔کتاب و سنت کی جملہ تعلیمات کو صدق دل سے اپنانا اچھے اخلاق کا نقطۂ آغاز ہے۔( ع،ر) [5] [حسن] سنن أبي داود، السنۃ، باب الدلیل علی زیادۃ الإیمان ونقصانہ، حدیث: 4682۔ [6] صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب مناقب عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، حدیث: 3759۔ [7] [صحیح] جامع الترمذي، البر والصلۃ، باب ما جاء فيحسن الخلق، حدیث: 2004، وقال: صحیح غریب، وصحیح ابن حبان، حدیث: 476، والمستدرک للحاکم: 324/4، امام ذہبی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔