کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 228
لِلّٰہِ،وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ،وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ،اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِي‘ ’’اللہ کے سوا کوئی(سچا)معبود نہیں ہے۔وہ ایک ہے،اس کا کوئی شریک نہیں،اسی کا ملک ہے اور تعریف بھی اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔اللہ پاک ہے،اللہ سب سے بڑا ہے،گناہ سے ہٹانے اور نیکی کروانے کی طاقت بھی صرف اللہ کے پاس ہے۔اے اللہ!مجھے معاف کردے۔‘‘ اس ذکر کے بعد جو چاہے دعا کرے،اللہ کریم قبول فرمائیں گے،جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’’جو شخص رات کو جاگے اور ’’مذکورہ‘‘ ذکر کے بعد دعا کرے تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ اسے ضرور قبول فرماتے ہیں۔اگر اس کے بعد اٹھ کر وضو کرے اور نماز پڑھے تو وہ بھی مقبول ومنظور ہو گی۔‘‘[1] یا یہ دعا پڑھے:’لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ،سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ!أَسْتَغْفِرُکَ لِذَنْبِي وَأَسْأَلُکَ رَحْمَتَکَ،اَللّٰھُمَّ!زِدْنِي عِلْمًا وَّلَا تُزِغْ قَلْبِي بَعْدَ إِذْ ھَدَیْتَنِي،وَھَبْ لِي مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً،إِنَّکَ أَنْتَ الْوَھَّابُ‘ ’’تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔تو(ہر عیب سے)پاک ہے،اے اللہ!میں تجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں،اے اللہ!مجھے علم میں زیادہ کر اور جب تو نے مجھے ہدایت دیدی ہے تو میرا دل ٹیڑھا نہ کر اور مجھے اپنی طرف سے رحمت عطا فرما۔بے شک تو ہی سب کچھ عطا کرنے والا(داتا)ہے۔‘‘[2] 6: صبح ہو جائے تو درج ذیل اذکار مبارکہ کا ورد کرے:جاگنے کے بعد اور بستر سے اٹھنے سے پہلے یہ پڑھے:((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُورُ)) ’’سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندگی دی(سلانے کے بعد جگایا)ہے اور اسی کی طرف(دوبارہ جی کر)اٹھنا ہے۔‘‘ [3] تہجد کے لیے اٹھے تو آسمان کی طرف دیکھے اور سورئہ آلِ عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کرے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:’’میں ایک رات اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سویا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کے وقت یا اس سے پہلے یا اس کے بعد اٹھے،اپنے چہرے سے نیند زائل کرنے کے لیے ہاتھ پھیرنے لگے،پھر سورۂ آلِ عمران کی آخری دس آیات تلاوت کیں اور پھر لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس آئے اور اچھی طرح وضو کیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔‘‘[4] [1] صحیح البخاري، التہجد، باب فضل من تعار من اللیل فصلٰی، حدیث: 1154۔ [2] [حسن] سنن أبي داود، الأدب، باب مایقول الرجل إذا تعار من اللیل، حدیث: 5061، اسے ابن حبان، حاکم اور ذہبی نے صحیح کہا ہے۔ [3] صحیح البخاري، الدعوات، باب مایقول إذا نام، حدیث: 6312۔ [4] صحیح البخاري، العمل في الصلاۃ، باب استعانۃ الید في الصلاۃ إذا کان من أمرالصلاۃ، حدیث: 1198، و صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم ودعائہ باللیل، حدیث: 763۔