کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 226
(رزق حلال)تلاش کرو اورتاکہ تم اس کا شکر ادا کرو۔‘‘ [1] ارشادِ الٰہی ہے:﴿وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا﴾’’اور ہم نے تمھاری نیند کو باعثِ آرام بنایا۔‘‘ [2] اس نعمت وکرم نوازی کا شکریہ اسی طرح ادا ہو سکتا ہے کہ ہدایاتِ ذیل کو قابلِ اہتمام سمجھا جائے: 1: نمازِ عشاء کے بعد سونے میں تاخیر نہ کرے،اِلَّا یہ کہ کوئی(جائز)ضرورت ہو۔مثلاً کوئی علمی مذاکرہ،مہمان کے ساتھ بات چیت اور گھر والوں کے ساتھ انس والفت کی باتیں وغیرہ۔ ابو برزہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عشاء سے پہلے نیند اور بعد میں باتیں کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔‘‘[3] 2: کوشش کرے کہ باوضو سوئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما کو حکم دیا تھا: ((إِذَا أَتَیْتَ مَضْجَعَکَ فَتَوَضَّأْ وُضُوئَ کَ لِلصَّلَاۃِ))’’جب تو(سونے کے لیے)بستر پر آنے کا ارادہ کرلے تو وضو کر،جس طرح تو نماز کے لیے وضو کرتا ہے۔‘‘ [4] 3: پہلے دائیں کروٹ پر لیٹے اور دائیں ہاتھ کا سر ہانہ بنائے اور اس کے بعد بائیں کروٹ ہو جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔حدیث نبوی ہے:’إِذَا أَتَیْتَ مَضْجَعَکَ فَتَوَضَّأْ وُضُوئَ کَ لِلصَّلَاۃِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلٰی شِقِّکَ الْأَیْمَنِ‘ ’’جب تو(نیند کے لیے)بستر پر آنے کا ارادہ کرلے تو نمازکے وضو جیسا وضو کر اور پھر اپنی دائیں جانب پر لیٹ جا۔‘‘[5] ارشادِ نبوی ہے: ((إِذَا أَوَیْتَ إِلٰی فِرَاشِکَ وَأَنْتَ طَاھِرٌ فَتَوَسَّدْ یَمِینَکَ))’’جب تو باوضو ہو کر بستر پرآجائے تو دائیں ہاتھ کو سرہانہ بنا۔‘‘ [6] 4: رات یا دن کے وقت جب بھی سوئے پیٹ کے بل نہ لیٹے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’إِنَّمَا ھٰذِہِ ضِجْعَۃُ أَھْلِ النَّارِ‘ ’’یہ تو جہنمیوں کا لیٹنا ہے۔‘‘ [7] نیز ارشاد ہے:’إِنَّ ھٰذِہِ ضِجْعَۃٌ لَّا یُحِبُّھَا اللّٰہُ‘ ’’یہ لیٹنا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔‘‘[8] [1] القصص 73:28۔ [2] النبا 9:78۔ [3] صحیح البخاري، مواقیت الصلاۃ، باب مایکرہ من النوم قبل العشآء، حدیث: 568۔ [4] صحیح البخاري، الوضوء، باب فضل من بات علَی الوضوء، حدیث:247، و صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب مایقول عند النوم :، حدیث: 2710۔ [5] صحیح البخاري، الوضوء، باب فضل من بات علَی الوضوء، حدیث: 247، وصحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب مایقول عند النوم وأخذ المضجع، حدیث: 2710۔ [6] [صحیح] سنن أبي داود، الأدب، باب مایقول عند النوم، حدیث: 5047۔ [7] [صحیح] سنن ابن ماجہ، الأدب، باب النہي عن الاضطجاع علَی الوجہ، حدیث : 3724۔ [8] [حسن] جامع الترمذي، الأدب، باب ماجاء في کراہیۃ الاضطجاع علَی البطن، حدیث:2768۔