کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 224
((خَمْسٌ مِّنَ الْفِطْرَۃِ:اَلْاِسْتِحْدَادُ،وَالْخِتَانُ،وَقَصُّ الشَّارِبِ،وَنَتْفُ الإِْبِطِ،وَتَقْلِیمُ الْأَظْفَارِ)) ’’پانچ(خصائل)فطرت میں سے ہیں،زیر ناف بال اتارنا،ختنہ کرنا،مونچھیں کاٹنا،بغل کے بال اکھیڑنا اور ناخن تراشنا۔‘‘[1] خصائلِ فطرت کی تفصیل: 1: ختنہ:عضو مخصوص کے سرے پر موجود جھلی کا کاٹنا،بہتر یہ ہے کہ یہ کام پیدائش سے ساتویں دن کیا جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کا ختنہ ساتویں دن کیا تھا۔[2] اگر تاخیر ہو جائے اور بالغ ہونے سے پہلے ختنہ کر لیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے،اور اگر پھر بھی رہ جائے تو بلوغت کے بعد ہی کر لیا جائے کیونکہ ابراہیم علیہ السلام نے 80 سال کی عمر میں ختنہ کیا تھا۔[3] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ ہر اسلام قبول کرنے والے شخص کو حکم فرماتے: ’أَلْقِ عَنْکَ شَعْرَ الْکُفْرِ وَاخْتَتِنْ‘ ’’وقتِ کفر کے بال اتار دے اور ختنہ کرالے۔‘‘ [4] 2: اوپر کے ہونٹ سے مونچھیں صاف کرے،البتہ داڑھی بڑھائے جس سے چہرہ بھر جائے اور خوبصورتی پیدا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’جُزُّوا الشَّوَارِبَ وَأَرْخُوا اللِّحٰی،خَالِفُوا الْمَجُوسَ‘ ’’مونچھیں کاٹو اور داڑھی بڑھاؤ اور مجوسیوں کی مخالفت کرو۔‘‘ [5] نیز فرمایا:((خَالِفُوا الْمُشْرِکِینَ،أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَوْفُوا اللِّحٰی))’’مشرکین کی مخالفت کرو،مونچھیں خوب پست کرو اور داڑھی بڑھاؤ۔‘‘ [6] بنا بریں داڑھی منڈوانا حرام ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے کچھ حصے کو مونڈنے اور کچھ کے چھوڑنے سے بھی منع فرمایا ہے۔جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:’نَھٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنِ الْقَزَعِ‘’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے بعض حصے کو مونڈنے اور بعض کو چھوڑنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘ [7] [1] صحیح البخاري، اللباس، باب تقلیم الأظفار،حدیث: 5891، وصحیح مسلم، الطہارۃ، باب خصال الفطرۃ، حدیث: 257، وجامع الترمذي، الأدب، باب ماجاء في تقلیم الأظفار، حدیث: 2756۔ [2] السنن الکبرٰی للبیہقي: 423/8۔ [3] صحیح البخاري، أحادیث الأنبیآء، باب قول اللّٰہ تعالٰی: ﴿ وَاتَّخَذَ اللّٰهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا﴾، حدیث: 3356۔ [4] [ضعیف] سنن أبي داود، الطہارۃ،باب الرجل یسلم فیؤمر بالغسل، حدیث: 356، اس کی سند انقطاع وغیرہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ [5] صحیح مسلم، الطہارۃ، باب خصال الفطرۃ، حدیث: 260۔ [6] صحیح البخاري، اللباس، باب تقلیم الأظفار، حدیث: 5892، وصحیح مسلم، الطہارۃ، باب خصال الفطرۃ، حدیث: 259 واللفظ لہ۔ [7] صحیح البخاري، اللباس، باب القزع، حدیث: 5920، وصحیح مسلم، اللباس والزینۃ، باب کراھۃ القزع، حدیث: 2120، وسنن أبي داود، الترجل، باب في الصبي لہ ذؤابۃ، حدیث: 4193۔