کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 217
’’بادشاہ مطلق،پاک ذات،فرشتوں اور روح الامین کے رب کی تسبیح(کرتا ہوں)جس کا غلبہ اور قہر آسمانوں اور زمین پر حاوی ہے۔‘‘[1] 14: رات کے ابتدائی حصہ میں سوئے تو اپنا بازو بچھا کر اس پر سر رکھ کر سوئے اور اگر رات کے آخری پہر آرام کرنا چاہے تو بازو کھڑا کر کے ہتھیلی پر سر رکھے،تا کہ گہری نیند نہ سو سکے ورنہ صبح کی نماز وقت پر نہیں پڑھ سکے گا۔ 15: سفر میں کوئی شہر یا آبادی سامنے آئے تو کہے:((اَللّٰھُمَّ!)اجْعَلْ لَّنَا فِیھَا رِزْقًا وَّقَرَارًا)) ’’اے اللہ!اس میں ہمیں حلال روزی دے اور ہمارے لیے اس میں ٹھہرنا نصیب کر۔‘‘[2] ’فَإِنَّا نَسْأَلُکَ خَیْرَ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ وَخَیْرَ أَھْلِھَا وَنَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ أَھْلِھَا وَشَرِّمَا فِیھَا‘ ’’ہم تجھ سے اس شہر کی اور اس میں رہنے والوں کی اچھائی کا سوال کرتے ہیں اور تیری پناہ چاہتے ہیں اس شہر کے شر سے،اس میں رہنے والوں کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے۔‘‘[3] ایسے مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی دعا کیا کرتے تھے۔ 16: سفر سے مقصودضرورت کے پورا ہونے پر جلد اپنے وطن اور گھر واپس آ جائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’اَلسَّفَرُ قِطْعَۃٌ مِّنَ الْعَذَابِ یَمْنَعُ أَحَدَکُمْ طَعَامَہُ وَ شَرَابَہُ وَنَوْمَہُ،فَإِذَا قَضٰی أَحَدُکُمْ نَھْمَتَہُ،(حَاجَتَہُ مِنْ سَفَرِہِ)فَلْیُعَجِّلْ إِلٰی أَھْلِہِ‘ ’’سفر عذاب کا قطعہ ہے جو تم میں سے ایک کو کھانے،پینے اور آرام سے روکتا ہے۔جب تم میں سے کوئی اپنے سفرکے مقصد کو پورا کرلے تو اپنے اہل کی طرف جلدی لوٹ آئے۔‘‘ [4] 17: واپسی پر تین بار ’’اللہ اکبر‘‘ کہے اور پھر بار بار یہ ذکر کرے:’آئِبُونَ،تَآئِبُونَ،عَابِدُونَ،لِرَبِّنَا حَامِدُونَ‘ ’’(ہم)واپس آنے والے توبہ کرنے والے،عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔‘‘[5] ایسے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول ہوا کرتا تھا۔ 18: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ و عادت مبارکہ یہ تھی کہ اپنی آمد کی اطلاع پہلے گھر بھجوا دیتے تھے،لہٰذا بلا اطلاع [1] [ضعیف] عمل الیوم واللیلۃ لابن السني، حدیث: 639، اس کی سند درمک بن عمرو کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھیے لسان المیزان وغیرہ۔ [2] [ضعیف] عمل الیوم واللیلۃ للنسائي، حدیث: 525، اس کی سند قیس بن سالم کے مجہول الحال ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ [3] [صحیح ] عمل الیوم واللیلۃ للنسائي، حدیث: 544، اسے امام ابن خزیمہ، ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ [4] صحیح البخاري، العمرۃ، باب السفر قطعۃ من العذاب، حدیث: 1804و 3001، وصحیح مسلم، الإمارۃ، باب: السفر قطعۃ من العذاب:، حدیث: 1927۔ [5] صحیح البخاري، الجہاد والسیر، باب مایقول إذا رجع من الغزو، حدیث: 3085، وصحیح مسلم، الحج، باب مایقول إذا رجع من سفر الحج وغیرہ، حدیث : 1344 بسند آخر۔