کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 216
ارادہ رکھتا ہوں،مجھے وصیت کیجیے۔تو آپ نے یہ فرمایا:’عَلَیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَالتَّکْبِیرِ عَلٰی کُلِّ شَرَفٍ‘ ’’تم اللہ کا خوف اور ڈر لازم پکڑو اور ہر اونچائی پر تکبیر کہو۔‘‘ [1] 10: کسی کا خطرہ محسوس ہو تو یہ دعا پڑھے:’اَللّٰھُمَّ!إِنَّا نَجْعَلُکَ فِي نُحُورِھِمْ وَنَعُوذُبِکَ مِنْ شُرُورِھِمْ‘ ’’اے اللہ!ہم تجھے ان کے سینوں میں(مدمقابل)کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔‘‘[2] ایسے مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی دعا منقول ہے۔ 11: سفر میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے اور دنیا و آخرت کی اچھائی کا سوال کرے کیونکہ سفر میں دعا قبول ہوتی ہے۔ارشادِ نبوی ہے:’ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُّسْتَجَابَاتٌ:دَعْوَۃُ الْمَظْلُومِ،وَدَعْوَۃُ الْمُسَافِرِ،وَدَعْوَۃُ الْوَالِدِ عَلٰی وَلَدِہِ‘ ’’تین دعائیں قبول ہوتی ہیں:مظلوم کی دعا،مسافر کی دعا اور والد کی اولاد کے حق میں دعا۔‘‘ [3] 12: کسی جگہ پڑاؤ ڈالے تویہ کہے:’أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ‘’’میں اللہ کے کامل تر کلمات کی پناہ لیتا ہوں،اس کی مخلوق کے شر سے۔‘‘[4] رات کا وقت آئے تویوں کہے:((یَا أَرْضُ!رَبِّي وَرَبُّکِ اللّٰہُ،أَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّکِ وَشَرِّمَا فِیکِ وَشَرِّمَا خُلِقَ فِیکِ وَشَرِّمَا یَدِبُّ عَلَیْکِ،وَأَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ(شَرِّ)أَسَدٍ وَّأَسْوَدَ،وَمِنَ الْحَیَّۃِ وَالْعَقْرَبِ،وَمِنْ سَاکِنِي الْبَلَدِ،وَمِنْ وَّالِدٍ وَّمَا وَلَدَ)) ’’اے زمین!میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔میں تیرے شر سے اور تیرے اندرموجود شر سے،تجھ میں پیدا شدہ شر سے اور تجھ پر چلنے والی مخلوق کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں اور اللہ کی پناہ لیتا ہوں شیر،سانپ،بچھو،شہر میں رہنے والوں اور(ہر)جنم دینے والے اور جو کچھ اس نے جنم دیا ہے،کے شر سے۔‘‘[5] 13: تنہائی میں خوف محسوس کرے تو کہے: ((سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوسِ رَبِّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوحِ،جُلِّلَتِ السَّمٰوَاتُ وَالْأَرْضُ بِالْعِزَّۃِ وَالْجَبَرُوتِ)) [1] [حسن] جامع الترمذي، الدعوات، باب منہ وصیتہ صلی اللہ علیہ وسلم المسافربتقوی اللّٰہ و التکبیر علی کل شرف، حدیث : 3445، امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔ [2] [ضعیف] سنن أبي داود، الوتر، باب مایقول الرجل إذا خاف قوماً، حدیث : 1537، اس کی سند قتادہ کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ شیخ البانی کے نزدیک حدیث حسن ہے۔ [3] [حسن] جامع الترمذي، الدعوات، باب ماذکر في دعوۃ المسافر، حدیث : 3448، وسنن أبيداود، الوتر، باب الدعاء بظہر الغیب، حدیث : 1536، امام ترمذی نے اسے حسن اور امام ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ [4] صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب في التعوذ من سوء القضاء:، حدیث : 2708۔ [5] صحیح البخاري، العمرۃ، باب السفر قطعۃ من العذاب، حدیث : 1804و 3001، وصحیح مسلم، الإمارۃ، باب: السفر قطعۃ من العذاب:، حدیث : 1927۔