کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 212
کسی جگہ چار دن یا اس سے زیادہ رہنے اور مقیم ہونے کا ارادہ کر لے،پھر وہ چار رکعت والی نماز پوری ادا کرے گا اور جب وہاں سے گھر کی طرف واپس روانہ ہو تو پھر قصر شروع کر دے گا اور اپنے گھر واپس آنے تک قصر کرتا رہے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ﴾ ’’جب تم زمین میں سفر کرو تو نماز،قصر کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘ [1] انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم مِنَ الْمَدِینَۃِ إِلٰی مَکَّۃَ فَکَانَ یُصَلِّي رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِینَۃِ‘ ’’ہم نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ مکرمہ گئے۔آپ(چار چار رکعت والی)نماز دو دو رکعت پڑھتے رہے،یہاں تک کہ مدینہ منورہ واپس آ گئے۔‘‘[2] 2: یہ ایک موقف ہے،جبکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ 19 دن سے زیادہ قیام کا ارادہ ہوتو مقیم تصور ہوگا اورپوری نماز پڑھے ورنہ قصر ہی کرے گا،جبکہ بعض محققین کہتے ہیں کہ اپنی اقامت گاہ سے نکل کر جب تک آدمی کو مسافر سمجھا جاتا ہو تو وہ مسافر ہی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی اقامت گاہ کو لوٹے۔ 3: تین دن اور تین راتیں موزوں پر مسح کرنا جائز ہے۔علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’جَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَّلَیَالِیَھُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَیَوْمًا وَّلَیْلَۃً لِّلْمُقِیمِ‘ ’’رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)نے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں(موزوں پر مسح کے لیے)مقرر کیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات۔‘‘ [3] 4: پانی نہ ملے،تلاش میں تکلیف ہوتی ہو یا قیمت بہت زیادہ ہو تو پھر مسافر کے لیے تیمم جائز ہے۔ارشادِ باری ہے: ﴿وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ﴾’’اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت کر کے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے جماع کیا ہو اور پانی نہیں پاتے تو پاک مٹی سے تیمم کرو،پس چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرلو۔‘‘ [4] 5: سفر میں روزہ افطار کرنے کی بھی اجازت ہے۔فرمانِ باری ہے:﴿فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ [1] النسآء 101:4۔ [2] صحیح البخاري، التقصیر، باب ماجاء في التقصیر:، حدیث: 1081، وصحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ المسافرین و قصرھا،حدیث: 693۔ [3] صحیح مسلم، الطہارۃ، باب التوقیت في المسح علَی الخفین، حدیث: 276۔ [4] النسآء 43:4۔