کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 196
ہوجائے تو وہ تجھے اہمیت دے۔ اسلامی اخوت کے حقوق: 1: مال کے ساتھ ایک دوسرے کی ہمدردی کہ دونوں ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مالی امداد کریں۔ہر ایک اپنی نقدی،رقوم اور روپے پیسے کو مشترکہ گردانے،جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اوربولا:میں آپ کو اللہ کے لیے بھائی بنانا چاہتا ہوں۔جناب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:بھائی بنانے کا حق جانتے ہو؟ اس شخص نے کہا کہ آپ بتائیے،آپ نے فرمایا:تو اپنے دینار و درہم کا مجھ سے زیادہ حق دار نہیں ہو سکے گا۔اس شخص نے کہا:ابھی میں اس درجہ تک نہیں پہنچا۔تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:پھر تم چلے جاؤ۔[1] 2: دونوں ایک دوسرے کے معاون و مددگار بن جائیں جس طرح کہ ایک انسان اپنے ذاتی معاملات پر نظر رکھتا ہے،دونوں ایک دوسرے کے معاملات پر اسی طرح نظر رکھیں۔ہر ایک کی کوشش ہو کہ وہ اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال سے زیادہ اپنے بھائی کو اہمیت دے،ہر تین دن بعد اس کے بارے میں دریافت کرے،بیمار ہے تو بیمار پرسی کرے،کسی کام میں ہے تو ہاتھ بٹائے،اسے کوئی بات بھول گئی ہے تو یاد دلائے،ملے تو خوش آمدید کہے،ساتھ بیٹھے تو مجلس میں وسعت پیدا کرے،بات کرے تو توجہ سے سنے۔ 3: اپنی زبان سے اپنے بھائی کا تذکرہ بجز اچھائی کے بالکل نہ کرے۔اس کے سامنے یا پیٹھ پیچھے اس کے عیوب ذکر نہ کرے،اس کے راز فاش نہ کرے،اس کی مخفی باتوں کی ٹوہ میں نہ لگا رہے،اور جب اسے دیکھے کہ وہ کسی ذاتی کام کی غرض سے کہیں جا رہا ہے تو(اندازے لگا کر)اس کام کا ذکر کرنے میں پہل نہ کرے اور نہ ہی جائے مقصد کو جاننے کی کوشش کرے(اگر وہ خود بتائے تو الگ بات ہے)اسے اچھائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں نرم رویہ اختیار کرے،گفتگو میں جھگڑنے کا انداز اور بحث و جدل کا طریق نہ اپنائے اور کسی معاملہ میں بھی طرزِ عتاب و اظہارِ ناراضی نہ کرے۔ 4: اپنی زبان کا استعمال اپنے بھائی کے لیے اس انداز میں کرے جیسا کہ وہ خود اپنے لیے اس سے چاہتا ہے۔دوست کو جو نام پسند ہے اسی سے بلائے۔لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں تو رشک اور خوشی سے اس کی اطلاع اسے دے۔نصیحت کو اتنا طول نہ دے کہ وہ اکتا جائے اور لوگوں کے سامنے پند و نصائح سے احتراز کرے کیونکہ وہ اس طرح شرمندہ ہو گا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:جو اپنے بھائی کو پوشیدہ سمجھاتا ہے،وہ اس کی خیرخواہی کر تا ہے اور اس کی زینت کا باعث ہے اور جو اعلانیہ نصیحت کرتا ہے،وہ اسے رسوا کر تا اور معیوب ٹھہراتا ہے۔ [1] بشرطِ صحت اس روایت کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کی رضا پر مبنی اسلامی اخوت کی انتہا کیا ہوسکتی ہے؟ (ع،ر)