کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 182
مزید فرمایا:’کَبِّرْ کَبِّرْ‘ ’’بڑے کو پہلے بات کرنے دے،بڑے کو پہلے بات کرنے دے۔‘‘ [1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ معروف ہے کہ آپ کے پاس برکت کی دعا کے لیے بچے لائے جاتے تھے۔آپ ان کے نام تجویز فرماتے،انھیں اپنی گود میں بٹھا لیتے۔[2] اور کبھی کبھی بچہ پیشاب بھی کر دیتا۔چنانچہ مروی ہے کہ آپ سفر سے آتے تو بچے آپ کی ملاقات کے لیے پہلے پہنچ جاتے۔آپ رک جاتے اور انھیں اپنے آگے پیچھے سواری پر بٹھا لیتے۔[3] اور بعض بچوں کو اپنے ساتھیوں کی سواریوں پر سوار کرا دیتے،یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں پر خصوصی مہربانی اور کرم نوازی تھی۔ 18: اپنی طرف سے اس کے لیے انصاف مہیا کرے اور جس انداز میں اپنے ساتھ معاملہ چاہتا ہے،اس کے ساتھ بھی اسی انداز میں رہے۔ارشادِ نبوی ہے: ’لَا یَسْتَکْمِلُ عَبْدٌ الإِْیمَانَ حَتّٰی یَکُونَ فِیہِ ثَلَاثُ خِصَالٍ:اَلإِْنْفَاقُ مِنَ الإِْقْتَارِ،وَالإِْنْصَافُ مِنْ نَّفْسِہِ،وَ بَذْلُ السَّلَامِ‘ ’’کوئی بندہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس میں تین باتیں نہ پائی جائیں:تنگ دستی میں خرچ کرنا،اپنی ذات سے انصاف کرنا اور سلام پھیلانا۔‘‘ [4] حدیث نبوی ہے:’فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یُّزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ،وَ یُدْخَلَ الْجَنَّۃَ فَلْتَأْتِہِ مَنِیَّتُہُ وَ ہُوَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ،وَلْیَأْتِ إِلَی النَّاسِ الَّذِي یُحِبُّ أَنْ یُّؤْتٰی إِلَیْہِ‘ ’’جو شخص جہنم کی آگ سے دور ہونے اور جنت میں داخل ہونے کو پسند کرتا ہے تو اس کی موت اس حالت میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ وہی برتاؤ کرے جو اپنے ساتھ چاہتا ہے۔‘‘ [5] [1] الموطأ للإمام مالک، القسامۃ، باب تبدئۃ أہل الدم في القسامۃ، حدیث: 1678، وصحیح البخاري، الجزیۃ و الموادعۃ، باب الموادعۃ والمصالحۃ مع المشرکین بالمال:، حدیث: 3173، وصحیح مسلم، القسامۃ، باب القسامۃ، حدیث: 1669۔ [2] صحیح مسلم، الآداب، باب استحباب تحنیک المولود:، حدیث: 2146۔ [3] سنن ابن ماجہ، الأدب، باب رکوب ثلاثۃ علٰی دابۃ، حدیث: 3773۔ [4] [ضعیف] مکارم الأخلاق للخرائطي، حدیث: 329 وفي إسنادہ انقطاع ومقال کما في تغلیق التعلیق ( 40/2)یہ روایت مرفوعاً ضعیف ہے تاہم اس کا مفہوم موقوفاً صحیح ہے(یہ بات نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں بلکہ بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے)دیکھیے صحیح البخاري، الإیمان، باب إفشاء السلام من الإسلام، قبل الحدیث: 28۔ [5] صحیح مسلم، الإمارۃ، باب وجوب الوفاء :، حدیث : 1844۔